نئی دہلی: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی حالات کے اثرات اب ہندوستان میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں حالیہ اضافے کے بعد عوام میں یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں دیگر ضروری اشیاء بھی مہنگی ہو سکتی ہیں۔ اسی خدشے کے باعث کئی مقامات پر گیس سلنڈروں کی غیر ضروری ذخیرہ اندوزی اور قبل از وقت بکنگ کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔
صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے حکومت نے ایل پی جی سلنڈر کی بکنگ کے اصول میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ اب صارفین ایک سلنڈر حاصل کرنے کے بعد 25 دن سے پہلے دوسرا ریفل بک نہیں کرا سکیں گے۔ اس اقدام کا مقصد گھریلو سلنڈروں کی غیر ضروری جمع خوری کو روکنا اور عام صارفین تک سپلائی کو یقینی بنانا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق پہلے زیادہ تر لوگ تقریباً 55 دن بعد سلنڈر بک کرتے تھے، لیکن حالیہ حالات کے پیش نظر بعض صارفین ہر 15 دن میں بکنگ کرنے لگے تھے جس سے بازار میں بے چینی اور مصنوعی قلت کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ اسی وجہ سے بکنگ کے وقفے کو پہلے کے مقابلے میں بڑھا کر 21 دن سے 25 دن کر دیا گیا ہے۔حکومت نے ریفائنریوں کو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ گیس کی پیداوار میں اضافہ کریں اور ضرورت پڑنے پر کمرشیل سپلائی کے بجائے گھریلو صارفین کو ترجیح دیں تاکہ عوام کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
دوسری جانب خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کے پاس فی الحال مناسب ذخیرہ موجود ہے۔ اگرچہ حال ہی میں گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں تقریباً 60 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس سے عوام میں تشویش پیدا ہوئی ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ جب تک خام تیل کی قیمت 130 ڈالر فی بیرل تک نہیں پہنچتی، تب تک پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان کم ہے۔مزید برآں ہندوستان نے تیل کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کے علاوہ دیگر راستوں سے بھی خام تیل درآمد کرنے کی حکمت عملی پر کام تیز کر دیا ہے، تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران کی صورت میں ملک کو ایندھن کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ماہرین کے مطابق ہندوستان ہوائی ایندھن کی پیداوار اور برآمدات میں بھی اہم مقام رکھتا ہے، اس لیے فی الحال طیاروں کے ایندھن کی قلت کا کوئی بڑا خطرہ نہیں ہے۔
