مغربی بنگال کے جلپائی گوڑی اور جنوبی 24 پرگنہ اضلاع میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرِ ثانی (ایس آئی آر) کے بعد شائع ہونے والی حتمی فہرست کے تناظر میں دو افراد کی مبینہ خودکشی کے واقعات سامنے آئے ہیں، جنہوں نے مقامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ان واقعات کے بعد سیاسی ماحول بھی گرم ہو گیا ہے اور مختلف جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہی ہیں۔پولیس کے مطابق جنوبی 24 پرگنہ کے گھولپارہ علاقے میں 44 سالہ رفیق علی غازی کی لاش بدھ کی صبح ان کے کمرے میں پھندے سے لٹکی ہوئی پائی گئی۔ ایک سینئر افسر نے بتایا کہ غازی کا نام حالیہ ووٹر لسٹ میں ’زیر غور‘ زمرے میں درج تھا۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اس اندراج کے بعد وہ کافی پریشان اور ذہنی دباؤ کا شکار رہنے لگے تھے۔ پولیس نے معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اسی طرح ایک اور واقعہ جلپائی گوڑی شہر میں پیش آیا، جہاں 62 سالہ گورنگا دے، جو برسوں سے موموز فروخت کر کے گزر بسر کر رہے تھے، منگل کی صبح اپنی رہائش گاہ کے بیت الخلا میں مردہ حالت میں پائے گئے۔ ابتدائی جانچ کے مطابق انہوں نے بھی پھندا لگا کر خودکشی کی۔ اہلِ خانہ کا دعویٰ ہے کہ 28 فروری کو جاری ہونے والی حتمی ووٹر لسٹ میں ان کا نام ’حذف شدہ‘ زمرے میں آنے کے بعد وہ شدید ذہنی اضطراب میں مبتلا تھے۔گورنگا دے کی اہلیہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے شوہر گزشتہ کئی دہائیوں سے ووٹ ڈالتے آ رہے تھے۔ اگرچہ 2002 کی ایک فہرست میں ان کا نام شامل نہیں تھا، تاہم ایس آئی آر کے دوران انہوں نے تمام مطلوبہ دستاویزات جمع کرائیں اور سماعت میں بھی شرکت کی۔ اس کے باوجود حتمی فہرست میں نام نہ ہونے سے وہ سخت مایوس ہو گئے تھے۔
ان واقعات پر حکمراں جماعت ترنمول کانگریس نے سخت ردِ عمل ظاہر کیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ نظرِ ثانی کے عمل میں شفافیت کی کمی اور تکنیکی پیچیدگیوں نے عام شہریوں کو پریشانی میں مبتلا کیا۔ پارٹی نے الیکشن کمیشن اور بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن کی جانب سے تاحال ان مخصوص واقعات پر باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم ذرائع کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ نظرِ ثانی کا عمل طے شدہ ضوابط کے تحت انجام دیا گیا ہے۔ پولیس دونوں اموات کی وجوہات جاننے کے لیے قانونی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔یہ واقعات اس بات کی یاد دہانی بھی کراتے ہیں کہ انتخابی عمل میں شفافیت کے ساتھ ساتھ عوامی رہنمائی اور بروقت وضاحت نہایت ضروری ہے، تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا ذہنی دباؤ سے بچا جا سکے۔
