نئی دہلی: معروف صنعت کار انیل امبانی اور ان کی کمپنی ریلائنس کمیونیکیشن کے خلاف سی بی آئی نے دھوکہ دہی کا ایک اور مقدمہ درج کر لیا ہے۔ یہ کارروائی بینک آف بڑودہ کی شکایت پر عمل میں آئی، جس میں 2,220 کروڑ روپے سے زائد کی مبینہ مالی بے ضابطگی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔تحقیقات کے مطابق 2013 سے 2017 کے درمیان کمپنی نے بینک سے حاصل کیے گئے قرض کو مقررہ مقصد کے بجائے دیگر مدات میں منتقل کیا۔ الزام ہے کہ رقم کو منسلک کمپنیوں میں فرضی لین دین کے ذریعے منتقل کیا گیا، جس سے بینک کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے انیل امبانی کی رہائش گاہ اور کمپنی کے دفاتر پر چھاپے بھی مارے گئے، جہاں سے قرض اور مالی لین دین سے متعلق اہم دستاویزات ضبط کیے گئے۔ ابتدائی جانچ میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی تصدیق ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے، اور حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں منظم سازش کے تحت کی گئیں۔رپورٹ کے مطابق 5 جون 2017 کو کمپنی قرض کی ادائیگی میں ناکامی کے باعث نان پرفارمنگ اکاؤنٹ (این پی اے) قرار دی گئی تھی۔ اس کے بعد کی تحقیقات میں مبینہ مالی ہیر پھیر کے شواہد سامنے آئے۔یہ معاملہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی سربراہی میں 11 بینکوں کے کنسورشیم کے پہلے سے درج مقدمے سے الگ بتایا جا رہا ہے۔ تازہ مقدمہ بینک آف بڑودہ اور دو دیگر بینکوں سے لیے گئے قرض سے متعلق ہے۔ادھر ای ڈی نے منی لانڈرنگ روک تھام قانون کے تحت ممبئی میں واقع انیل امبانی کا ایک بنگلہ بھی ضبط کر لیا ہے، جس کی مالیت تقریباً 3,716 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔ یہ کارروائی مبینہ طور پر 40 ہزار کروڑ روپے کے بینک فراڈ سے متعلق جاری تحقیقات کے تناظر میں کی گئی ہے۔حکام کے مطابق معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید قانونی اقدامات متوقع ہیں۔
