یو اے ای حملہ پر بھارت کا سخت ردعمل، شہریوں کو نشانہ بنانا ’ناقابل قبول‘ قرار
متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرہ میں پیش آئے حملے کے بعد حکومت ہند نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے انتہائی سنگین اور ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ اس واقعے میں کم از کم تین ہندوستانی شہری زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
وزارت خارجہ ہند کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ عام شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس طرح کے حملے فوری طور پر بند ہونے چاہئیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
Our statement on the attack on Fujairah ⬇️
🔗 https://t.co/01Nz7g06FR pic.twitter.com/KQAr8R9ciQ
— Randhir Jaiswal (@MEAIndia) May 5, 2026
بھارت نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے واضح کیا کہ ایسے بحرانوں کا مستقل حل صرف بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ مغربی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے تمام فریقین کو تحمل اور مذاکرات کا راستہ اپنانا ہوگا۔آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی بھارت نے اپنی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اس اہم سمندری راستے پر بلا رکاوٹ نقل و حرکت عالمی معیشت کے لیے نہایت ضروری ہے۔ حکومت نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ وہ خطے میں امن برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کے لیے تیار ہے۔یہ حملہ پیر کے روز فجیرہ آئل انڈسٹری زون میں مبینہ طور پر ڈرون کے ذریعے کیا گیا، جس کے بعد علاقے میں آگ بھڑک اٹھی۔ مقامی سول ڈیفنس ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پایا۔ زخمی ہونے والے ہندوستانیوں کو درمیانی نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں اور ان کا علاج جاری ہے۔
یو اے ای وزارت دفاع کے مطابق حملے کے دوران داغے گئے چار میزائلوں میں سے تین کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا، جبکہ ایک سمندر میں جا گرا۔ ادھر ہندوستانی سفارت خانہ یو اے ای مقامی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور متاثرہ شہریوں کی دیکھ بھال کو یقینی بنا رہا ہے۔
