کمرشل گیس سلنڈر کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، نئے مالی سال کے آغاز پر مہنگائی کا نیا جھٹکا
نئے مالی سال 2026-27 کے آغاز کے ساتھ ہی عوام اور کاروباری طبقے کو مہنگائی کے ایک اور سخت وار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یکم اپریل سے کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا، جس کے بعد کاروباری اخراجات میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
19 کلوگرام والے کمرشل سلنڈر کی قیمت میں مختلف شہروں میں تقریباً 195 سے 218 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد دارالحکومت دہلی میں سلنڈر کی قیمت 2078.50 روپے تک پہنچ گئی ہے، جو اس سے قبل 1883 روپے تھی۔
دیگر بڑے شہروں میں بھی قیمتوں میں واضح اضافہ درج کیا گیا ہے۔ کولکاتا میں سلنڈر 2208 روپے، ممبئی میں 2031 روپے اور چنئی میں 2246.50 روپے تک جا پہنچا ہے۔ قیمتوں میں اس اضافے کا براہ راست اثر ہوٹلوں، ریستورانوں، ڈھابوں اور دیگر چھوٹے بڑے کاروباروں پر پڑنے کا امکان ہے، جہاں گیس کا استعمال روزمرہ کا حصہ ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ گزشتہ چار مہینوں کے دوران یہ پانچواں موقع ہے جب کمرشل ایل پی جی کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں۔ اس سے قبل بھی جنوری، فروری اور مارچ میں متعدد بار اضافہ کیا جا چکا ہے، جس کے باعث کاروباری حلقوں میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔
دوسری جانب گھریلو صارفین کے لیے وقتی راحت کی خبر یہ ہے کہ 14.2 کلوگرام والے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں اس بار کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ دہلی، ممبئی، کولکاتا اور چنئی سمیت بڑے شہروں میں گھریلو سلنڈر کی قیمتیں بدستور برقرار ہیں۔
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور توانائی کے بحران نے تیل اور گیس کی سپلائی کو متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں کشیدہ صورتحال اور اہم بحری راستوں میں رکاوٹیں قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ سمجھی جا رہی ہیں، جس کے اثرات بھارت سمیت کئی ممالک میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
اسی دوران ایوی ایشن ٹربائن فیول (ATF) کی قیمتوں میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے۔ دہلی میں اس کی قیمت پہلی بار دو لاکھ روپے فی کلو لیٹر کی حد عبور کر چکی ہے، جس کے باعث آنے والے دنوں میں فضائی سفر مزید مہنگا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مجموعی طور پر توانائی کی بڑھتی قیمتیں نہ صرف کاروباری لاگت میں اضافہ کر رہی ہیں بلکہ عام صارفین کی جیب پر بھی اضافی بوجھ ڈالنے کا سبب بن رہی ہیں۔
