اورنگ آباد کے گورنمنٹ میڈیکل کالج و اسپتال (گھاٹی اسپتال) کے ڈاکٹروں نے ایک انتہائی پیچیدہ اور حساس سرجری انجام دیتے ہوئے جالنہ کے 21 سالہ نوجوان عمران شیخ کی جان بچالی۔ نوجوان کو گردن پر شدید حملے کے باعث سنگین نوعیت کی چوٹیں آئی تھیں، جس سے اس کی سانس کی نالی (ٹریکیا) کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا۔اطلاعات کے مطابق زخمی نوجوان کو 22 جنوری کی رات ایمرجنسی وارڈ میں داخل کیا گیا، جہاں اس کی حالت نہایت تشویشناک تھی۔ ڈاکٹروں نے فوری صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ہنگامی سرجری کرنے کا فیصلہ کیا۔ سرجری کے دوران مریض کی سانس برقرار رکھنے کے لیے فوری طور پر ٹریکیوسٹومی کی گئی، جس کے بعد متاثرہ سانس کی نالی کی انتہائی باریک اور پیچیدہ مرمت کی گئی۔
ڈاکٹروں نے سانس کی نالی کو مضبوط بنانے کے لیے مریض کی ٹانگ کی ہڈی (ٹیبیا) سے پیروسٹیل گرافٹ لے کر اس کا استعمال کیا، جس سے نالی کو دوبارہ مضبوطی فراہم کی گئی اور اس کے بہتر طور پر مندمل ہونے کی امید پیدا ہوئی۔یہ مشکل سرجری گھاٹی اسپتال کے ڈین ڈاکٹر شیواجی سکرے اور شعبۂ ای این ٹی کے سربراہ ڈاکٹر سنیل دیشمکھ کی رہنمائی میں انجام دی گئی۔ سرجیکل ٹیم کی قیادت ڈاکٹر ادیب حسین نے کی، جبکہ اسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سونالی جاتلے اور دیگر ڈاکٹروں نے بھی اس اہم آپریشن میں حصہ لیا۔
ڈاکٹروں کے مطابق مریض کی سانس کی نالی کو شدید نقصان پہنچنے کی وجہ سے اینستھیزیا دینا اور سانس کی نالی کو محفوظ رکھنا سب سے بڑا چیلنج تھا، تاہم ماہر ٹیم نے کامیابی کے ساتھ یہ ذمہ داری نبھائی اور کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی سرجری کے بعد نوجوان کی جان بچانے میں کامیاب رہے۔
