نئی دہلی (بیورو، 4 اپریل 2026):ملک میں ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا، اور اب پٹرول و ڈیزل کے بعد سی این جی کی قیمت میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ نجی کمپنی ’ٹورنٹ گیس‘ نے سی این جی کے نرخوں میں 2 روپے 50 پیسے فی کلوگرام کا اضافہ کیا ہے، جس کے بعد عام صارفین کی پریشانی مزید بڑھ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سے قبل کمرشل ایل پی جی سلنڈر اور ہوائی ایندھن کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ کچھ نجی کمپنیوں نے پٹرول اور ڈیزل کے دام بھی بڑھائے ہیں۔ اگرچہ سرکاری تیل کمپنیوں نے فی الحال پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی، لیکن عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت تقریباً 110 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے باعث دباؤ برقرار ہے۔
Israel, Iran war: Torrent Gas raises CNG price by Rs 2.50/kg; locals flag rising cost burdenhttps://t.co/1BBnifG8r1
— Economic Times (@EconomicTimes) April 4, 2026
ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی ایشیا میں کشیدہ حالات اور سپلائی میں رکاوٹ کے سبب عالمی سطح پر ایندھن مہنگا ہو رہا ہے، جس کا اثر بتدریج ملک میں بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔
سی این جی مہنگی ہونے سے خاص طور پر آٹو رکشہ ڈرائیوروں اور روزمرہ سفر کرنے والے افراد پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے ان کی آمدنی متاثر ہو رہی ہے اور اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
ادھر یکم اپریل سے کمرشل گیس سلنڈر کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد بڑے سلنڈر کی قیمت دو ہزار روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ اگرچہ گھریلو گیس سلنڈر کی قیمت میں فی الحال کوئی نئی تبدیلی نہیں کی گئی، تاہم مجموعی طور پر بڑھتی مہنگائی نے عوام اور کاروباری طبقے دونوں کو متاثر کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر عالمی حالات میں بہتری نہ آئی تو آنے والے دنوں میں ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا اثر ٹرانسپورٹ، کاروبار اور روزمرہ زندگی پر پڑنا یقینی ہے۔
