کانپور میں سائبر فراڈ کا نیا طریقہ بے نقاب، پرانے موبائل بن رہے جرائم کا ذریعہ، 20 گرفتار
کانپور (11 اپریل 2026):
سائبر جرائم کے حوالے سے کانپور پولیس نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے، جس کے مطابق بیکار یا پرانے موبائل فون اب سائبر ٹھگوں کے لیے ایک نیا ہتھیار بن چکے ہیں۔ پولیس نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے پرانے یا خراب موبائل کباڑیوں یا پھیری والوں کو دینے سے گریز کریں یا انتہائی احتیاط برتیں۔تفصیلات کے مطابق محلوں میں گھوم کر پرانا سامان جمع کرنے والے کباڑی خراب موبائل فون اکٹھا کرتے ہیں، جو بعد میں ایک منظم سائبر فراڈ نیٹ ورک تک پہنچائے جاتے ہیں۔ یہ گروہ ان فونز کے قابلِ استعمال پارٹس نکال کر نئے کسٹمائزڈ موبائل تیار کرتا ہے، جنہیں غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
پولیس کارروائی کے دوران 20 سائبر مجرموں کو گرفتار کیا گیا، جن کے قبضے سے 17 اینڈرائیڈ فون، 4 کی پیڈ فون اور دیگر الیکٹرانک آلات برآمد ہوئے۔ تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ ان میں سے بیشتر ڈیوائسز پرانے موبائل کے پارٹس سے تیار کی گئی تھیں۔ مزید یہ کہ ان فونز کی میموری سے پرانا ڈیٹا بھی دوبارہ حاصل کیا جا سکتا تھا، جس سے عام لوگوں کی ذاتی معلومات کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔پولیس حکام کے مطابق یہ کسٹمائزڈ فون مختلف ایجنٹس کے ذریعے سائبر ٹھگوں تک پہنچائے جاتے تھے، جن کی قیمت 5 ہزار سے 50 ہزار روپے تک ہوتی تھی۔ ان فونز کا استعمال کال، میسج اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع سے لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے کیا جاتا تھا۔
سائبر ماہرین کا کہنا ہے کہ پرانے موبائل میں اکثر صارف کا ڈیٹا باقی رہ جاتا ہے، جسے تکنیکی طریقوں سے بحال کیا جا سکتا ہے۔ ٹھگ اسی معلومات کو بلیک میلنگ اور فراڈ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے فونز میں وی پی این اور ورچوئل نمبر والی ایپس استعمال کی جاتی ہیں، جس سے مجرموں کی شناخت اور لوکیشن ٹریس کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بعض ڈیوائسز میں ایک ساتھ کئی سم کارڈ استعمال کرنے کی سہولت بھی ہوتی ہے، جو تفتیش کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔
پولیس نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے پرانے موبائل کو فروخت یا کسی کے حوالے کرنے سے پہلے اسے مکمل طور پر فارمیٹ کریں، تمام اکاؤنٹس سے لاگ آؤٹ کریں، ایس ڈی کارڈ نکال دیں اور ذاتی ڈیٹا کو مستقل طور پر حذف کر دیں، تاکہ معلومات کے غلط استعمال سے بچا جا سکے۔
