افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے اور حالات باقاعدہ مسلح تصادم کی شکل اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ سرحدی پٹی میں دونوں ممالک کی فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں اور گولہ باری کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جس سے خطے میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سلامتی اور سرحدوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک کی خودمختاری کو چیلنج کیا گیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ صدر آصف علی زرداری نے بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان اپنی علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

دوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی کارروائی کا سخت جواب دیا جائے گا۔ ان کے مطابق سرحد پر تعینات فورسز کو مکمل اختیارات حاصل ہیں اور وہ صورتحال کے مطابق کارروائی کر رہی ہیں۔
افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ جھڑپوں کے دوران پاکستان کی متعدد سرحدی چوکیوں پر کنٹرول حاصل کیا گیا ہے اور انہیں بعض مقامات پر برتری بھی حاصل ہوئی ہے۔ افغان ذرائع کے مطابق ان کارروائیوں میں درجنوں پاکستانی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے، جبکہ کچھ کو تحویل میں لینے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
کابل میں لڑاکا طیاروں کی پروازوں اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ شہری علاقوں میں بھی غیر یقینی صورتحال پائی جا رہی ہے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ فضائیہ نے کابل اور قندھار کے اطراف مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق کارروائیاں افغان سرزمین پر موجود مبینہ عسکری ٹھکانوں کے خلاف کی گئیں۔ دوسری طرف افغان حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے دفاعی نظام نے پاکستانی طیاروں کو نشانہ بنایا اور ایک جہاز کو مار گرانے میں کامیابی حاصل کی۔دونوں ممالک کی جانب سے کیے گئے دعوؤں کی تاحال غیر جانبدار ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم موجودہ صورتحال خطے میں سنگین کشیدگی کی عکاسی کر رہی ہے۔
