بیجنگ: عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران جنگ کے اثرات کے درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا تین روزہ دورہ چین (13 تا 15 مئی) شروع ہونے جا رہا ہے، جسے موجودہ عالمی سیاست کا ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
اس دورے کو خاص طور پر اس لیے اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ چین اور ایران کے بڑھتے ہوئے تعلقات عالمی طاقتوں کے درمیان نئی سفارتی کشمکش کو جنم دے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے دورے سے قبل ہی تائیوان کے مسئلے پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے چین پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایران میں جاری کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اس ملاقات کے اہم موضوعات میں شامل ہوں گے۔ امریکہ کی جانب سے یہ بھی توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ چین پر زور دیا جائے گا کہ وہ ایران پر اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ہرمز آبنائے سے متعلق تنازع اور ممکنہ جنگ بندی کے عمل میں کردار ادا کرے۔
ادھر ایران کے حوالے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ رپورٹوں کے مطابق جنگی حالات کے دوران تہران اور مغربی طاقتوں کے درمیان مستقل جنگ بندی کا کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا۔ اسی دوران ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ایک بیان نے عالمی خدشات میں اضافہ کر دیا ہے، جس میں اشارہ دیا گیا کہ اگر حملے جاری رہے تو ایران یورینیم کی افزودگی 90 فیصد تک بڑھا سکتا ہے، جو بین الاقوامی سطح پر سنگین تشویش کا باعث ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر ایسی پیش رفت ہوتی ہے تو خطے میں ایٹمی خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں اور مشرق وسطیٰ ایک نئے بحران کی طرف جا سکتا ہے۔
اسی دوران ٹرمپ نے چین کے ساتھ اپنے مذاکرات سے قبل سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اشارہ دیا ہے کہ اگر سفارتی دباؤ ناکام ہوا تو امریکہ تائیوان کو مزید دفاعی تعاون فراہم کر سکتا ہے۔ اس بیان نے پہلے ہی عالمی سفارتکاری میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔
ٹرمپ کے دورہ چین کے دوران اعلیٰ سطحی ملاقاتیں، وفود کی سطح پر مذاکرات اور رسمی سرکاری تقریبات بھی شیڈول کا حصہ ہوں گی، جبکہ شی جن پنگ کی جانب سے ان کے اعزاز میں ایک خصوصی استقبالیہ تقریب متوقع ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دورہ نہ صرف امریکہ اور چین کے تعلقات کے لیے بلکہ ایران، تائیوان اور عالمی توانائی سیاست کے لیے بھی فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
