حیدرآباد: ریاست تلنگانہ کی حکومت نے بزرگ والدین کی کفالت کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم اور غیر معمولی قدم اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت ایسے سرکاری ملازمین کی تنخواہ سے 10 سے 15 فیصد تک رقم کاٹ کر براہِ راست ان کے والدین کے بینک کھاتوں میں منتقل کی جائے گی جو ان کی مناسب دیکھ بھال نہیں کرتے۔ یہ بل جلد ریاستی اسمبلی میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے نئے تعینات شدہ گروپ ون اور گروپ ٹو افسران کے تربیتی پروگرام کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری عہدے والدین کی قربانیوں اور محنت کا نتیجہ ہوتے ہیں، اس لیے ان کی خدمت صرف اخلاقی نہیں بلکہ عملی ذمہ داری بھی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اس معاملے پر سنجیدہ ہے اور آئندہ بجٹ اجلاس میں باضابطہ قانون سازی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اکثر افسران کیریئر کے آغاز میں جوش و جذبے سے کام کرتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ بعض اوقات خاندانی ذمہ داریوں سے غفلت برتی جاتی ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ سرکاری ملازمین پیشہ ورانہ فرائض کے ساتھ ساتھ سماجی اور خاندانی اقدار کو بھی ملحوظ رکھیں۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ قانون میں شکایات کی جانچ کے لیے ایک باضابطہ طریقہ کار وضع کیا جا سکتا ہے، تاکہ کسی بھی کارروائی سے قبل مکمل تحقیق اور دونوں فریقوں کا مؤقف سنا جا سکے۔ امکان ہے کہ اس قانون کے تحت والدین کو ضلعی سطح پر شکایت درج کرانے کی سہولت دی جائے گی، جس کے بعد متعلقہ محکمہ رپورٹ کی بنیاد پر فیصلہ کرے گا۔وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر سرکاری افسران کی پیشہ ورانہ تربیت کے حوالے سے بھی اہم اعلان کیا۔ ان کے مطابق ریاستی تربیتی ادارے ایم سی آر ایچ آر ڈی انسٹی ٹیوٹ اور عالمی شہرت یافتہ ہارورڈ یونیورسٹی کے درمیان مفاہمت کی تیاری جاری ہے، جس کے تحت اعلیٰ معیار کی انتظامی تربیت فراہم کی جائے گی۔ اگر تمام معاملات طے شدہ شیڈول کے مطابق آگے بڑھے تو ریاستی یومِ تاسیس سے قبل اس پروگرام کا آغاز متوقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو یہ بزرگ شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ملک کی سطح پر ایک مثال بن سکتا ہے، تاہم اس کے عملی نفاذ اور شفافیت کو یقینی بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہوگا۔ریاستی حکومت کا یہ اقدام سماجی ذمہ داری کے فروغ اور خاندانی نظام کے استحکام کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس پر مختلف حلقوں میں بحث کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔
