بنگال ووٹر لسٹ نظرثانی میں تیزی، لاکھوں اعتراضات نمٹانے کا دعویٰ
مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے عمل میں تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ اب تک موصول ہونے والے اعتراضات کی بڑی تعداد کو نمٹا دیا گیا ہے۔
عدالت کو دی گئی معلومات کے مطابق ریاست بھر میں ووٹر لسٹ سے متعلق تقریباً 60 لاکھ اعتراضات درج کیے گئے تھے، جن میں سے 31 مارچ تک قریب 47 لاکھ اعتراضات کا تصفیہ کیا جا چکا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ باقی معاملات پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔
سپریم کورٹ کو یہ بھی بتایا گیا کہ اس وقت روزانہ تقریباً 1.75 لاکھ سے 2 لاکھ اعتراضات نمٹائے جا رہے ہیں۔ اسی رفتار سے کام جاری رہا تو 7 اپریل تک تمام زیر التوا اعتراضات پر حتمی فیصلہ ہونے کی توقع ہے۔
اس معاملے کی سماعت سپریم کورٹ کی ایک بنچ کر رہی ہے، جس نے پیش رفت پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ عمل جلد مکمل ہو جائے گا۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن کی جانب سے حال ہی میں ووٹر لسٹ کی چوتھی ضمنی فہرست جاری کی گئی ہے، تاہم اس میں شامل یا خارج کیے گئے ناموں کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل شائع کی گئی حتمی فہرست میں تقریباً 60 لاکھ ووٹروں کے نام ’زیر غور‘ رکھے گئے تھے، جن پر فیصلہ کرنے کے لیے سینکڑوں افسران کو تعینات کیا گیا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ ریاست میں اسمبلی انتخابات قریب ہیں، ایسے میں ووٹر لسٹ کی یہ نظرثانی انتخابی عمل میں اہم کردار ادا کرے گی۔
