ملک بھر کے موبائل فونز پر اچانک بجا ’ایمرجنسی الرٹ‘، شہری گھبرا گئے، حکومت نے بتائی اصل وجہ
ہندوستان بھر میں ہفتہ کے روز اس وقت لوگوں میں بے چینی پھیل گئی جب لاکھوں موبائل فونز پر اچانک تیز آواز کے ساتھ ’ایکسٹریملی سیویئر الرٹ‘ یعنی انتہائی سنگین انتباہ کا پیغام نمودار ہوا۔ کئی شہریوں نے اسے کسی بڑے حادثے، زلزلے یا قومی ہنگامی صورتحال کا اشارہ سمجھ لیا، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس الرٹ کو لے کر مختلف قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔تاہم بعد میں حکومت ہند کی جانب سے واضح کیا گیا کہ یہ کسی حقیقی خطرے کا اعلان نہیں بلکہ ایک آزمائشی پیغام (ٹیسٹ الرٹ) تھا، جس کا مقصد ملک میں شروع کیے گئے نئے موبائل آفات مواصلاتی نظام کی جانچ کرنا تھا۔حکومت نے حال ہی میں ملک گیر سطح پر ایک جدید موبائل الرٹ سسٹم متعارف کرایا ہے، جس کے ذریعے زلزلہ، سونامی، سمندری طوفان، شدید بارش، آسمانی بجلی، گیس لیک، صنعتی حادثات یا دیگر ہنگامی حالات میں عوام کو فوری طور پر خبردار کیا جا سکے گا۔ اس نظام کا مقصد یہ ہے
If you receive a message like this on your phone, it is a test alert as part of India’s new nationwide mobile-based Disaster Communication System, developed by the @cdot_india team at @DoT_India with @ndmaindia, using cell broadcast technology.
This system will henceforth be… pic.twitter.com/eweuvJA12r
— Jyotiraditya M. Scindia (@JM_Scindia) May 2, 2026
کہ خطرہ آنے سے پہلے ہی شہریوں تک درست اور فوری اطلاع پہنچ جائے تاکہ جانی و مالی نقصان کو کم کیا جا سکے۔موبائل فونز پر بھیجے گئے پیغام میں ہندی اور انگریزی دونوں زبانوں میں لکھا گیا تھا کہ ہندوستان نے دیسی ٹیکنالوجی کے ذریعے سیل براڈکاسٹ سروس شروع کی ہے، جس کے ذریعے شہریوں کو آفات کی فوری اطلاع فراہم کی جائے گی۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا کہ اس پیغام پر کسی قسم کی کارروائی کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ صرف ایک ٹیسٹ ہے۔یہ جدید نظام وزارت مواصلات کے محکمۂ ٹیلی مواصلات نے حکومت ہند کی قومی آفات نظم و نسق اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے تعاون سے تیار کیا ہے۔ اس میں ’سیل براڈکاسٹ سسٹم‘ نامی دیسی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے، جو کسی مخصوص جغرافیائی علاقے میں موجود تمام موبائل فونز تک ایک ہی وقت میں الرٹ پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ماہرین کے مطابق اس سسٹم کی سب سے بڑی خاصیت یہی ہے کہ یہ صرف چند سیکنڈز میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں تک بیک وقت اطلاع پہنچا سکتا ہے، جبکہ عام ایس ایم ایس میں ایسا ممکن نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ زلزلے، سونامی یا اچانک آنے والی قدرتی آفات میں یہ نظام انتہائی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔وزارت مواصلات کے
अगर आपके फोन पर Alert Message आए, घबराएं नहीं।
यह Emergency Alert System की testing का हिस्सा है,
ताकि आपदा के समय सही जानकारी समय पर मिल सके।Testing के दौरान यह संदेश बार-बार आ सकता है।
इसे अनदेखा करें, आपको कुछ करने की ज़रूरत नहीं है।#EmergencyAlerts #StayAlert… pic.twitter.com/z0UdeWoZGT— DoT India (@DoT_India) May 1, 2026
مطابق یہ سسٹم بین الاقوامی ٹیلی مواصلاتی یونین کے تجویز کردہ کامن الرٹنگ پروٹوکول (CAP) پر مبنی ہے اور اس وقت ملک کی تمام 36 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں فعال ہو چکا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اب تک قدرتی آفات، موسمی انتباہات اور سمندری طوفانوں کے دوران 19 سے زائد ہندوستانی زبانوں میں 134 ارب سے زیادہ ایس ایم ایس الرٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔ مزید برآں، سنامی، زلزلہ، آسمانی بجلی گرنے، گیس کے اخراج اور کیمیائی خطرات جیسی حساس صورتحال میں فوری اطلاع رسانی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سیل براڈکاسٹ ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر شامل کیا جا رہا ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے وقت میں یہ جدید نظام لاکھوں جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کرے گا، کیونکہ کسی بھی آفت میں بروقت اطلاع ہی سب سے بڑی حفاظت ہوتی ہے۔ حکومت کا یہ قدم نہ صرف تکنیکی ترقی کی علامت ہے بلکہ شہریوں کے تحفظ کی جانب ایک بڑا اور مؤثر اقدام بھی مانا جا رہا ہے۔
