منی پور میں ایک بار پھر حالات کشیدہ ہو گئے ہیں، جہاں بشنوپور ضلع میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے راکٹ حملے نے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس افسوسناک واقعے میں دو معصوم بچوں کی جان چلی گئی جبکہ ان کی والدہ زخمی ہو گئیں۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر حکومت نے امپھال ویسٹ، امپھال ایسٹ، تھوبل، کاکچنگ اور بشنوپور سمیت پانچ اضلاع میں انٹرنیٹ خدمات تین دن کے لیے معطل کر دی ہیں تاکہ صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔
یہ واقعہ دیر رات موئرانگ ٹرونگلاوبی علاقے میں پیش آیا، جہاں ایک گھر پر دھماکہ خیز مواد گرنے سے زوردار دھماکہ ہوا۔ اس وقت گھر میں موجود پانچ سالہ بچہ اور چھ ماہ کی بچی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ ان کی ماں زخمی ہو گئیں۔ واقعے کے بعد مقامی لوگوں میں شدید غم و غصہ پایا گیا اور انہوں نے احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل کر ٹائر جلائے، گاڑیوں کو آگ لگائی اور پولیس چوکی کو نقصان پہنچایا۔
The Government of Manipur has ordered a temporary suspension of internet and mobile data services in Imphal West, Imphal East, Thoubal, Kakching and Bishnupur districts for 3 days with immediate effect in view of the prevailing law and order situation. pic.twitter.com/0oPDlqAPp7
— ANI (@ANI) April 7, 2026
صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کو فوری طور پر علاقے میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ نے اس حملے کو انتہائی سفاکانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف انسانیت بلکہ ریاست میں قائم امن کے خلاف کھلی سازش ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ملوث عناصر کو جلد گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ متحد رہیں اور ایسے عناصر کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہوں جو ریاست کی سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ حکام کے مطابق علاقے سے ایک مشتبہ دھماکہ خیز آلہ بھی برآمد ہوا ہے، جس کے بعد سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
