بجنور میں تربوز کھانے کے بعد المناک واقعہ22 سالہ لڑکی کی موت، والدین کی حالت تشویشناک
اتر پردیش کے بجنور میں تربوز کھانے کے بعد ایک ہی خاندان کے تین افراد کی طبیعت اچانک بگڑنے کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد علاقے میں خوف و تشویش پھیل گئی۔ واقعہ کوتوالی دیہات تھانہ علاقے کے شیر نگر نرائیکا گاؤں میں پیش آیا، جہاں 22 سالہ مسکان کی دورانِ علاج موت ہو گئی جبکہ اس کے والدین کی حالت اب بھی نازک بتائی جا رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن بازار سے تربوز خرید کر گھر لائے تھے، جسے انہوں نے اپنی اہلیہ اور بیٹی مسکان کے ساتھ کھایا۔ کچھ ہی دیر بعد تینوں کو الٹی، بے چینی اور شدید پیٹ درد کی شکایت شروع ہو گئی۔ اہل خانہ فوری طور پر انہیں اسپتال لے جانے نکلے، لیکن راستے میں ہی مسکان نے دم توڑ دیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس کی شادی حال ہی میں طے ہوئی تھی اور گھر میں خوشیوں کی تیاریاں جاری تھیں، مگر یہ خوشی اچانک غم میں بدل گئی۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی محکمہ صحت اور پولیس کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ مسکان کے والدین کو بجنور کے ایک نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے تحویل میں لیا، تاہم اہل خانہ نے پوسٹ مارٹم نہ کرانے کی خواہش ظاہر کی۔
محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ موت کی اصل وجہ میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد ہی واضح ہوگی، لیکن ابتدائی طور پر فوڈ پوائزننگ یا پھل میں استعمال کیے گئے کیمیکل کو وجہ مانا جا رہا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تربوز پر خطرناک جراثیم کش ادویات یا مصنوعی رنگ استعمال کیے گئے ہوں۔
واقعہ کے بعد محکمہ صحت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ گرمیوں میں پھل خریدتے وقت احتیاط برتیں۔ ماہرین کے مطابق تربوز استعمال کرنے سے پہلے اسے اچھی طرح دھونا اور کچھ وقت پانی میں رکھنا بہتر ہے، جبکہ غیر معمولی طور پر زیادہ سرخ یا مشکوک نشانات والے پھل خریدنے سے گریز کرنا چاہیے۔
