ویسٹرن کمانڈ کا دوٹوک پیغام: دباؤ میں نہیں آئیں گے، ’آپریشن سندور 2.0‘ ہوا تو جواب زیادہ سخت ہوگا
نئی دہلی/پٹھان کوٹ: پاکستان کی جانب سے مبینہ ایٹمی دھمکیوں کے تناظر میں ویسٹرن کمانڈ کے لیفٹیننٹ جنرل منوج کٹیار نے واضح کیا ہے کہ ایسی باتیں محض دباؤ ڈالنے کی کوشش ہیں اور ہندوستان کسی بھی قسم کے بلف سے مرعوب ہونے والا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک اپنی سرحدوں کے تحفظ اور دفاعی تیاریوں کے معاملے میں پوری طرح مستعد ہے۔پٹھان کوٹ کینٹ میں منعقدہ ’آپریشن سندور‘ سے متعلق خصوصی نمائش کے دوران لیفٹیننٹ جنرل کٹیار نے کہا کہ اگر مستقبل میں ’آپریشن سندور 2.0‘ کی ضرورت پیش آئی تو اس کی نوعیت اور شدت پہلے مرحلے سے زیادہ ہوگی۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ کسی بھی کارروائی کی گہرائی اس وقت کی عسکری حکمت عملی کے مطابق طے کی جائے گی، جس میں جدید ڈرون ٹیکنالوجی کلیدی کردار ادا کرے گی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ آپریشن کے دوران سرحد پار موجود دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ بعد ازاں دونوں جانب سے محدود جھڑپوں کا سلسلہ تقریباً 88 گھنٹوں تک جاری رہا، جس کے بعد جنگ بندی کے لیے اعلیٰ عسکری سطح پر رابطہ کیا گیا۔نمائش میں فوج کی جدید جنگی صلاحیتوں کو نمایاں انداز میں پیش کیا گیا۔ سپرسونک کروز میزائل برہموس کی رفتار اور ہدف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت توجہ کا مرکز رہی۔ اسی طرح فضائی دفاع کے لیے آکاش میزائل سسٹم اور ملٹی لیئر ایئر ڈیفنس نیٹ ورک کی کارکردگی کو بھی اجاگر کیا گیا، جو ڈرون اور میزائل خطرات کو فضا میں ہی ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔فوجی حکام کے مطابق جدید جنگ میں ڈرون اور الیکٹرانک وارفیئر اہم ہتھیار بن چکے ہیں، اسی لیے ویسٹرن کمانڈ میں تکنیکی تیاریوں اور انسدادِ ڈرون نظام پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی خصوصی یونٹس کو بھی تیز رفتار اور ہائی رسک آپریشنز کے لیے تیار کیا گیا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل کٹیار نے جموں و کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ہے، تاہم سرحد پار سے دراندازی اور عدم استحکام کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی بلا امتیاز جاری رہے گی۔نمائش کا مجموعی پیغام یہی تھا کہ زمینی، فضائی اور تکنیکی صلاحیتوں کے مربوط استعمال کے ساتھ ہندوستانی فوج کسی بھی روایتی یا ہائبرڈ خطرے کا مؤثر جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
