خامنہ ای کی شہادت پر ہندوستان میں سوگ کی لہر، لکھنؤ کی سڑکیں احتجاج سے گونج اٹھیں
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر سامنے آتے ہی ہندوستان بھر میں گہرے رنج و غم کی فضا قائم ہو گئی۔ سیاسی و سماجی شخصیات کے ساتھ ساتھ عام شہریوں نے بھی اس واقعہ پر شدید افسوس اور غم و غصے کا اظہار کیا۔آیت اللہ خامنہ ای نہ صرف ایران کے سپریم لیڈر تھے بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں، بالخصوص شیعہ مکتب فکر کے نزدیک ایک روحانی و مذہبی رہنما کی حیثیت رکھتے تھے۔ انہیں رہبر معظم، مرجع عالم اور رہبر انقلاب اسلامی جیسے القابات سے یاد کیا جاتا تھا۔ ان کی وفات کی خبر نے ان کے چاہنے والوں اور مقلدین کو سوگوار کر دیا ہے۔اتوار کی صبح جب لوگ ماہِ رمضان میں سحری اور عبادات میں مصروف تھے، اسی دوران شہادت کی خبر پھیل گئی۔ اطلاع ملتے ہی کئی شہروں میں لوگ گھروں سے نکل آئے اور احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ خاص طور پر لکھنؤ میں بڑی تعداد میں شہری سڑکوں پر جمع ہو گئے۔پرانے لکھنؤ کے علاقوں کاظمین، رستم نگر، منصور نگر، کشمیری

محلہ،بزازہ، مفتی گنج، مصاحب گنج اور حسین آباد میں عوامی ہجوم دیکھنے میں آیا۔ سیاہ لباس میں ملبوس روزہ داروں نے ریلیاں نکالیں اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی۔ آصفی امام باڑہ اور حسین آباد کا چھوٹا امام باڑہ احتجاج کا مرکزی مقام بن گیا جہاں مردوں، خواتین اور بچوں نے شرکت کی۔
مظاہرین اپنے ہاتھوں میں آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے جبکہ کئی گھروں پر سیاہ پرچم بھی لہرائے گئے۔ مساجد، درگاہوں اور امام بارگاہوں میں قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا اور ہر طرف سوگ کی فضا نظر آئی۔
مظاہرے میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ یہ سانحہ محض ایک شخصیت کے انتقال کا غم نہیں بلکہ ایک عہد کے خاتمے کا احساس بھی ہے۔ لوگوں نے ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے انصاف کی اپیل کی
