۵۰ سال تک امامت کے فرائض انجام دینے والے حافظ دلاور صاحب کو پوری بستی نے مل کر حج پر روانہ کیا
لاڈساونگی (اورنگ آباد): مقامی جامع مسجد کے احاطے میں گذشتہ روز ایک تاریخی اور رقت آمیز ‘جلسہِ الوداع و اعزازِ خدمتِ دین’ کا انعقاد کیا گیا۔ یہ پروقار تقریب مسجد کے شفیق امام و خطیب حضرت مولانا حافظ دلاور صاحب کے اعزاز اور ان کے مبارک ‘سفرِ حج’ پر رخصتی کے موقع پر منعقد کی گئی، جنہوں نے اپنی زندگی کی آدھی صدی (۵۰ سال) لاڈساونگی کی دینی خدمت، مسجد کی آبادکاری اور نسلوں کے ایمان کی حفاظت میں وقف کر دی۔
اہلِ بستی کا بے مثال جذبہ اور نذرانہ:اس مبارک موقع پر لاڈساونگی کے اہرِ خیر، مخلصین اور نوجوانوں نے محبت و ایثار کی ایک ایسی انوکھی مثال قائم کی جس کی ہر طرف ستائش ہو رہی ہے۔ پوری بستی نے اپنے محسن امام کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی حلال اور خون پسینے کی کمائی سے لاکھوں روپے کا فنڈ جمع کیا اور حافظ صاحب کو ان کی نصف صدی پر محیط مخلصانہ خدمات کے صلے میں ‘حجِ بیت اللہ’ کا مقدس سفر بطورِ تحفہ پیش کیا۔
مولانا رئیس اور مولانا سرفراز کی انتھک محنت:اس پورے کارِ خیر، فنڈ کی فراہمی اور جلسے کو کامیابی کے اعلیٰ مقام تک پہنچانے میں بستی کے متحرک علمائے کرام حضرت مولانا رئیس صاحب اور حضرت مولانا سرفراز صاحب نے دن رات ایک کر دیا۔ ان دونوں حضرات کی دوراندیش قیادت، مخلصانہ اپیلوں اور انتھک کوششوں کے نتیجے میں ہی اتنے کم وقت میں یہ بڑا ہدف حاصل ہو سکا اور حافظ صاحب کا سفرِ حج ممکن ہوا۔ پوری بستی نے ان دونوں علمائے کرام کی اس مخلصانہ محنت کو دل سے سراہا۔
ایک رقت آمیز اور جذباتی سماں: جلسے کے دوران جہاں ایک طرف حافظ صاحب کو اللہ کا مہمان بننے پر پورا گاؤں نہال تھا، وہی دوسری طرف ۵۰ سالہ رفاقت کے بچھڑنے پر ہر آنکھ اشکبار تھی۔ خصوصاً جب حافظ صاحب کے بڑے صاحبزادے، جامعہ ریاض العلوم کے ہونہار فاضل مرحوم مولانا اسرار صاحب کا تذکرہ ہوا، تو محفل پر ایک رقت آمیز کیفیت طاری ہو گئی۔
پروگرام میں موجود دیگر اکابرین اور علمائے کرام، جن میں مولانا نسیم الدین صاحب مفتاحی (صدرِ مجلس)، اور بستی کے معززین شامل تھے، انہوں نے حافظ صاحب کے حلیم لہجے، عاجزی اور بستی کے لیے ان کی قربانیوں پر روشنی ڈالی۔
آخری مرحلے میں، صاحبِ اعزاز حضرت حافظ دلاور صاحب نے مائیک پر تشریف لا کر لاڈساونگی کی بستی کے اتحاد، باہمی الفت، بچوں کے روشن مستقبل، امن و امان اور تمام معاونین کے لیے رو رو کر انتہائی رقت آمیز دعائیں فرمائیں اور مجمع کو الوداع کہا۔
