منہ میں قلم دبا کر لکھنے والے فیضان اللہ نے عزم و حوصلے کی نئی تاریخ رقم کر دی
جھارکھنڈ کے قصبہ گوڈا سے تعلق رکھنے والے محمد فیضان اللہ نے اپنی غیر معمولی محنت اور مضبوط ارادے سے یہ ثابت کر دیا کہ جسمانی کمزوری انسان کے خوابوں کو محدود نہیں کر سکتی۔ سیریبرل پالسی جیسی پیچیدہ بیماری میں مبتلا ہونے کے باوجود انہوں نے دسویں بورڈ امتحان میں 93 فیصد نمبر حاصل کرتے ہوئے معذور زمرے میں نمایاں کامیابی درج کی اور ہزاروں نوجوانوں کے لیے امید کی روشن مثال بن گئے۔
فیضان اللہ بچپن ہی سے ایسی بیماری کا شکار ہیں جس کے باعث ان کے ہاتھ اور پیر معمول کے مطابق کام نہیں کرتے۔ وہ نہ آسانی سے چل سکتے ہیں اور نہ ہی عام بچوں کی طرح بیٹھ سکتے ہیں، لیکن ان مشکلات کے باوجود انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے منہ میں قلم پکڑ کر لکھنے کی مسلسل مشق کی اور آج اپنی محنت کے بل پر کامیابی کی وہ منزل حاصل کی جسے دیکھ کر ہر شخص متاثر ہو رہا ہے۔
ان کے والد محمد انور عالم ایک نجی مدرسے میں تدریسی خدمات انجام دیتے ہیں۔ جب فیضان اللہ صرف چھ ماہ کے تھے تب خاندان کو ان کی بیماری کا علم ہوا، مگر والدین نے مایوسی کے بجائے اپنے بیٹے کی تعلیم اور تربیت پر پوری توجہ دی۔ ابتدا میں گھر ہی پر اردو، عربی، ہندی، انگریزی اور ریاضی کی تعلیم دی گئی کیونکہ وہ باقاعدگی سے اسکول نہیں جا سکتے تھے۔
بعد میں ایک خصوصی استاد جتیندر کمار بھگت نے ان کی زندگی بدل دی۔ انہوں نے فیضان اللہ کی ذہانت کو پہچانا اور انہیں نئے انداز میں تعلیم دینا شروع کی۔ سب سے بڑا مسئلہ لکھنے کا تھا، کیونکہ وہ ہاتھ سے قلم نہیں پکڑ سکتے تھے۔ کئی کوششوں کے بعد استاد نے قلم کو ان کے دانتوں کے درمیان رکھ کر لکھنے کی مشق کروائی اور یہی طریقہ بعد میں ان کی کامیابی کا ذریعہ بن گیا۔
مسلسل محنت کے نتیجے میں فیضان اللہ نہ صرف منہ سے لکھنے لگے بلکہ ان کی تحریر اتنی بہتر ہو گئی کہ عام طالب علموں سے فرق کرنا مشکل ہو گیا۔ انہوں نے آٹھویں جماعت میں اسکول میں اول پوزیشن حاصل کی اور پھر کامیابی کا سفر جاری رکھا۔ ضلعی تقریری مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے کے بعد ملنے والے لیپ ٹاپ نے ان کی تعلیم میں نئی راہیں کھول دیں۔ انہوں نے کمپیوٹر، پریزنٹیشن، اسپریڈ شیٹ اور مصنوعی ذہانت جیسی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی سیکھ لیا۔
بورڈ امتحان میں انہیں معاون لکھاری کی سہولت دی گئی تھی، مگر انہوں نے زیادہ تر پرچے خود لکھنے کا فیصلہ کیا۔ خاص طور پر ریاضی کے امتحان میں انہوں نے مکمل پرچہ خود حل کیا اور 98 نمبر حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا۔
محمد فیضان اللہ کی کامیابی صرف ایک طالب علم کی کامیابی نہیں بلکہ یہ ہر اس شخص کے لیے ایک طاقتور پیغام ہے جو مشکلات کے سامنے ہمت ہار دیتا ہے۔ ان کی جدوجہد یہ ثابت کرتی ہے کہ اگر انسان کے اندر جذبہ، محنت اور خود اعتمادی موجود ہو تو ناممکن راستے بھی آسان بن جاتے ہیں۔
