ملک کے کئی شہروں میں عوام کو ایک مرتبہ پھر مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
سی این جی کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہونے کے بعد لوگوں کی تشویش بڑھ گئی ہے۔چند روز کے اندر یہ دوسرا اضافہ بتایا جا رہا ہے۔جس کے بعد روزانہ سفر کرنے والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی روزمرہ کی چیزیں مہنگی ہو چکی ہیں۔اب ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ مزید بوجھ پیدا کرے گا۔بہت سے لوگ اپنی روزی روٹی کے لیے گاڑیوں پر انحصار کرتے ہیں۔ایسی صورت میں اخراجات میں اضافہ براہ راست ان کی آمدنی پر اثر ڈال سکتا ہے۔مسافروں کو لے جانے والے افراد نے بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔سیاسی حلقوں میں بھی اس معاملے پر ردعمل سامنے آیا ہے۔
'महंगाई मैन' मोदी का चाबुक फिर चला, CNG के दाम आज फिर बढ़े।
• 15 मई: 2 रुपए
• 17 मई: 1 रुपएअब तक मोदी ने CNG 3 रुपए महंगी कर दी है। चुनाव खत्म होते ही, मोदी की वसूली चालू हो गई।
— Congress (@INCIndia) May 17, 2026
مختلف جماعتوں نے اس اضافے پر اپنی رائے ظاہر کی ہے۔بعض رہنماؤں نے اسے عوام پر اضافی بوجھ قرار دیا ہے۔دوسری طرف ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی حالات بھی قیمتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
ان کے مطابق گیس کی دستیابی اور مانگ میں تبدیلی بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا تو روزمرہ زندگی مزید مشکل ہو سکتی ہے۔
عام شہریوں میں اس فیصلے کے بعد بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔کئی افراد نے قیمتوں پر نظرثانی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔یہ معاملہ اس وقت مختلف حلقوں میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔سب کی نظریں آنے والے دنوں کی صورتحال پر مرکوز ہیں۔
