ملک کی اعلیٰ عدالت نے عدالتی نظام میں ایک اہم تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے ہفتے میں دو دن ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایندھن کی بچت، غیر ضروری سفر میں کمی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا بتایا جا رہا ہے۔
عدالت کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق نئے مقدمات کی سماعت کے لیے مقرر مخصوص دنوں میں جج اور وکلاء آن لائن طریقے سے کارروائی انجام دیں گے۔ اس فیصلے کے بعد عدالتی نظام میں ایک نئی تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔
حکام کے مطابق عدالتی عملے کے تقریباً پچاس فیصد ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی بھی اجازت دی جائے گی تاکہ دفتری دباؤ کم ہو اور نظام مؤثر انداز میں چل سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ کار پولنگ کو بھی فروغ دینے کی بات کی گئی ہے تاکہ گاڑیوں کے استعمال اور ایندھن کی کھپت میں کمی لائی جا سکے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے وقت کی بچت ہوگی اور دور دراز علاقوں سے مقدمات کی پیروی کرنے والے افراد کو بھی سہولت حاصل ہوگی۔
البتہ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام پر انحصار کرنے سے تکنیکی مسائل بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یہ نظام کامیاب رہا تو مستقبل میں مزید اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
اس فیصلے کو عدالتی نظام میں جدیدیت کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
