ملک کے عدالتی نظام سے متعلق ایک بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے جسے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومت نے سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ نافذ کر دیا ہے۔
اس فیصلے کے بعد اب ملک کی سب سے بڑی عدالت میں ججوں کی تعداد پہلے سے زیادہ ہو جائے گی۔کافی عرصے سے قانونی حلقوں میں یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ مقدمات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ججوں میں اضافہ کیا جائے۔بتایا جا رہا ہے کہ ملک کی عدالتوں میں بڑی تعداد میں مقدمات زیر سماعت ہیں۔بعض مقدمات کئی برسوں سے فیصلے کے انتظار میں ہیں۔ایسی صورتحال میں ججوں پر کام کا بوجھ مسلسل بڑھتا جا رہا تھا۔حکومت کا ماننا ہے کہ اگر ججوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تو مقدمات کے فیصلے تیزی سے ہو سکیں گے۔قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے عام لوگوں کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ انصاف میں تاخیر کئی مرتبہ لوگوں کے مسائل میں اضافہ کر دیتی ہے۔اسی لیے عدالتی نظام کو مضبوط بنانا وقت کی ضرورت بن چکا تھا۔
The President is pleased to increase the Judge strength of the Supreme Court from 33 to 37 Judges (Excluding the Chief Justice of India) by promulgating The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Ordinance, 2026, which has further amended the “Supreme Court (Number of Judges)…
— Arjun Ram Meghwal (@arjunrammeghwal) May 16, 2026
کئی وکلاء نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ قدم انتہائی ضروری تھا۔بعض ماہرین نے یہ بھی کہا کہ صرف ججوں کی تعداد بڑھانا کافی نہیں ہوگا۔ان کے مطابق مقدمات کے انتظام اور جدید نظام کو بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔قانونی حلقوں کا ماننا ہے کہ عدالتی اصلاحات پر مزید توجہ دی جانی چاہیے۔عوام کی بڑی تعداد اس فیصلے کو مثبت قدم قرار دے رہی ہے۔لوگوں کو امید ہے کہ اس سے انصاف کی رفتار بہتر ہوگی۔
زیر التوا مقدمات کی تعداد کم ہونے کی توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔اگرچہ اس عمل کے نتائج سامنے آنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔تاہم اسے عدالتی نظام کی مضبوطی کی طرف ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ اس فیصلے کے عملی اثرات کس حد تک سامنے آتے ہیں۔
