نئی دہلی (بیورو، 4 اپریل 2026):راجستھان میں سب انسپکٹر اور پلاٹون کمانڈر بھرتی امتحان کے معاملے میں سپریم کورٹ نے اہم موڑ لاتے ہوئے اپنے پہلے حکم میں ترمیم کر دی ہے۔ عدالت نے پہلے دی گئی اجازت واپس لیتے ہوئے اب 700 سے زائد امیدواروں کو امتحان میں شرکت سے روک دیا ہے، جس سے بھرتی عمل میں نئی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
سپریم کورٹ کی بنچ، جس میں جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس ستیش چندر شرما شامل تھے، نے 2 اپریل کے اپنے حکم پر نظرثانی کی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس معاملے کی سماعت تعطیل کے دن بھی کی گئی۔ ابتدائی فیصلے میں عدالت نے 713 امیدواروں کو عارضی طور پر امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دی تھی، تاہم بعد میں راجستھان پبلک سروس کمیشن (RPSC) کی جانب سے پیش کیے گئے دلائل کے بعد اس حکم میں تبدیلی کی گئی۔
نئے فیصلے کے مطابق اب صرف ایک امیدوار، سورج مل مینا، کو ہی 5 اور 6 اپریل کو ہونے والے امتحان میں شرکت کی اجازت دی گئی ہے۔ اس سے قبل دیگر امیدواروں کے لیے بھی ایڈمٹ کارڈ جاری کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، لیکن عدالت نے واضح کیا کہ مکمل حقائق سامنے آنے کے بعد حکم میں ترمیم ضروری تھی۔
عدالت نے دیگر امیدواروں کے لیے یہ راستہ بھی کھلا رکھا ہے کہ وہ راجستھان ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ اگر ہائی کورٹ ان کے حق میں فیصلہ دیتی ہے اور دوبارہ امتحان کا حکم ہوتا ہے تو انہیں موقع مل سکتا ہے۔
واضح رہے کہ یہ بھرتی امتحان پہلے بھی تنازعات کا شکار رہ چکا ہے۔ بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے الزامات کے بعد اسے منسوخ کیا گیا تھا، جس کے بعد بغیر عمر میں رعایت دیے دوبارہ امتحان کرانے کا فیصلہ لیا گیا۔ اسی فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے معاملہ عدالتوں تک پہنچا۔ اس امتحان میں لاکھوں امیدوار شریک ہونے والے ہیں، ایسے میں سپریم کورٹ کے اس تازہ فیصلے کے اثرات وسیع پیمانے پر دیکھے جا رہے ہیں۔
