دہلی میں پھر بم دھمکیوں سے کھلبلی، چار اسکول اور ایک بینک نشانے پر
ای میل موصول ہوتے ہی پولیس اور بم اسکواڈ متحرک، متعدد ادارے احتیاطاً خالی
نئی دہلی: قومی دارالحکومت میں تعلیمی اداروں کو بم سے اڑانے کی دھمکیوں کا سلسلہ ایک بار پھر سامنے آیا ہے۔ پیر کی صبح تقریباً 8 بجے دہلی پولیس اور دہلی فائر سروس کو اطلاع ملی کہ شہر کے مختلف علاقوں میں قائم چار اسکولوں اور ایک بینک کو دھمکی آمیز ای میل موصول ہوئی ہے، جس کے بعد متعلقہ سیکیورٹی ادارے فوری طور پر حرکت میں آگئے۔اطلاعات کے مطابق دہلی کینٹ کا آرمی پبلک اسکول، میور وہار کا سلوان پبلک اسکول، جنک پوری کا میری پبلک اسکول، بلی ماران کا رابعہ گرلز اسکول اور بارا کھمبا روڈ پر واقع اسٹیٹسمین ہاؤس میں ایکسس بینک کو مشتبہ ای میل بھیجی گئی۔ ای میل ملتے ہی اداروں میں افراتفری پھیل گئی اور انتظامیہ نے پولیس کو آگاہ کیا۔پولیس، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور دیگر سیکیورٹی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور تمام مقامات پر باریک بینی سے تلاشی کا عمل شروع کر دیا گیا۔ بچوں اور عملے کی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کئی اسکولوں کو احتیاطی طور پر خالی کرا لیا گیا۔ طلبہ اور اساتذہ کو پرسکون رہنے اور سیکیورٹی اہلکاروں کی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی جانچ کے دوران کسی بھی مقام سے کوئی مشتبہ شے برآمد نہیں ہوئی، تاہم مکمل تسلی تک سرچ آپریشن جاری رکھا جائے گا۔ معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے سائبر سیل کو بھی فعال کر دیا گیا ہے تاکہ ای میل بھیجنے والے کا سراغ لگایا جا سکے۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا یہ کسی منظم گروہ کی کارروائی ہے یا شرارتاً خوف پھیلانے کی کوشش۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر ہی یقین کریں۔قابل ذکر ہے کہ حالیہ دنوں میں دہلی کے اسکولوں کو اس نوعیت کی دھمکیاں ملنے کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے باعث سیکیورٹی ایجنسیاں الرٹ ہیں اور تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
