خلیج فارس میں ایک بار پھر بڑے ماحولیاتی خطرے نے دنیا کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی ہے۔ ایران کے خارگ جزیرے کے قریب سمندر میں خام تیل کے دو بڑے دھبے پائے گئے ہیں، جن کے بعد اقوام متحدہ سمیت عالمی ماہرین نے شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ سمندری نگرانی کرنے والی کمپنی ’’ونڈورڈ اے آئی‘‘ کے مطابق 8 مئی کو سامنے آنے والا پہلا تیل رساؤ مسلسل سعودی عرب کی سمت بڑھ رہا ہے، جبکہ ایک نیا رساؤ اتوار کی صبح بھی دیکھا گیا۔
ماہرین کے مطابق تازہ تیل رساؤ تقریباً 12 سے 20 مربع کلومیٹر تک پھیل سکتا ہے، جبکہ پہلے سے موجود بڑا دھبہ تقریباً 65 مربع کلومیٹر علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سمندر میں ہزاروں بیرل خام تیل شامل ہو چکا ہے، جو اگر اسی رفتار سے پھیلتا رہا تو آنے والے چند دنوں میں قطر کے سمندری علاقوں تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ تقریباً دو ہفتوں میں یو اے ای کے ساحلی حصوں کو بھی متاثر کرنے کا خدشہ ہے۔
ایران نے اس معاملے کی ذمہ داری غیر ملکی جہازوں پر ڈال دی ہے۔ ایران کے صوبہ بوشہر کے رکن پارلیمنٹ جعفر پورک بگانی نے دعویٰ کیا ہے کہ یورپی آئل ٹینکروں نے سمندر میں تیل اور آلودہ پانی چھوڑا، جس کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی۔ تاہم سمندری تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ رساؤ خام تیل کا معلوم ہوتا ہے، جو ممکنہ طور پر کسی پرانی پائپ لائن کی خرابی یا جہاز سے جہاز میں تیل منتقل کرتے وقت حادثے کے باعث ہوا ہوگا۔
اقوام متحدہ سے وابستہ ماہر ماحولیات ڈاکٹر کاوہ مدنی نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ رساؤ خلیجی ممالک کے لیے ایک سنگین ماحولیاتی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق خارگ جزیرے کے اطراف تیل اور گیس کا وسیع انفراسٹرکچر موجود ہے، اور اگر رساؤ بڑھتا رہا تو سمندری حیات، ماہی گیری، ساحلی آبادیوں اور پانی صاف کرنے والے پلانٹس کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ڈاکٹر مدنی نے یہ بھی کہا کہ خلیج فارس میں پانی کی گردش بہت سست ہے، جس کی وجہ سے تیل کی آلودگی طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے۔ انہوں نے ماضی کی خلیجی جنگ اور ایران-عراق جنگ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات پہلے بھی سمندری ماحول اور معیشت پر تباہ کن اثرات چھوڑ چکے ہیں۔
دوسری جانب ایران کی آئل ٹرمینلز کمپنی نے کسی بھی بڑے تیل رساؤ سے انکار کیا ہے، لیکن عالمی ماہرین صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
