گیس بحران کے دوران حکومت کا نیا فیصلہ، پی این جی صارفین کو ایل پی جی سلنڈر نہیں ملیں گے
نئی دہلی:مرکزی حکومت نے گھریلو گیس سپلائی کے قوانین میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے کہ جن گھروں میں پائپ کے ذریعے قدرتی گیس یعنی پی این جی کی سہولت موجود ہے، وہ اب سبسڈی والے ایل پی جی سلنڈر نہیں رکھ سکیں گے۔ یہ فیصلہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ایندھن کے بحران کے پیش نظر کیا گیا ہے۔وزارت پٹرولیم اور قدرتی گیس کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ایسے صارفین جن کے پاس اس وقت پی این جی اور ایل پی جی دونوں کنکشن موجود ہیں، انہیں فوری طور پر اپنا ایل پی جی کنکشن واپس کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ مستقبل میں پی این جی کنکشن رکھنے والے افراد کو نیا گھریلو ایل پی جی کنکشن حاصل کرنے کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔
"No person having a Piped Natural Gas connection and also having domestic LPG connection shall retain a domestic LPG connection, or take refills of domestic LPG cylinders from any Government oil company, or through their distributors. Such persons will be required to immediately… pic.twitter.com/TgSMHzfD7F
— Press Trust of India (@PTI_News) March 14, 2026
حکومت نے یہ قدم ضروری اشیاء ایکٹ 1955 کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اٹھایا ہے۔ وزارت نے ایل پی جی سپلائی اور تقسیم سے متعلق 2000 کے ضابطوں میں ترمیم کرتے ہوئے ترمیمی آرڈر 2026 جاری کیا ہے، جس کے بعد نئے قوانین نافذ ہو گئے ہیں۔ترمیم شدہ ضابطوں کے مطابق سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیاں یا ان کے ڈسٹری بیوٹرز ایسے صارفین کو نہ نیا گھریلو ایل پی جی کنکشن فراہم کریں گے اور نہ ہی سلنڈر ری فل کریں گے جن کے پاس پہلے سے پی این جی کنکشن موجود ہے۔ اس پابندی کو ایل پی جی سپلائی ریگولیشن کے تحت ممنوع سرگرمیوں کی فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ایل پی جی کی دستیاب مقدار کو بہتر انداز میں تقسیم کرنا ہے تاکہ وہ گھرانے جن کے پاس پائپ کے ذریعے گیس کی سہولت نہیں ہے، انہیں ترجیحی بنیاد پر سلنڈر فراہم کیے جا سکیں۔ حکومت کے مطابق یہ فیصلہ عالمی توانائی سپلائی پر ممکنہ دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 کے دوران ہندوستان میں تقریباً 33 ملین ٹن ایل پی جی استعمال کی گئی، جس میں سے 20.67 ملین ٹن درآمد کی گئی تھی۔ ان درآمدات کا بڑا حصہ مغربی ایشیا سے آتا ہے اور زیادہ تر سپلائی آبنائے ہرمز کے راستے ہندوستان پہنچتی ہے، جو دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں شمار ہوتی ہے۔حکومت نے اس کے ساتھ گھروں، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو ایل پی جی کی فراہمی میں ترجیح دینے کی ہدایت بھی دی ہے۔ مزید یہ کہ مقامی ریفائنریز کو ایل پی جی کی پیداوار بڑھانے اور تیار شدہ گیس صرف سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
