🔴 ممبئی میں بڑا ایکشن: ای ڈی نے انیل امبانی کا 3,716 کروڑ کا ‘Abode’ عارضی طور پر ضبط کر لیا
ممبئی: ملک کے معروف صنعت کار Anil Ambani ایک بار پھر قانونی شکنجے میں آ گئے ہیں۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے ممبئی کے پوش علاقے پالی ہل میں واقع ان کی عالی شان رہائش گاہ ‘Abode’ کو عارضی طور پر ضبط کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس جائیداد کی مالیت تقریباً 3,716 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے، جو ممبئی کی مہنگی ترین نجی املاک میں شمار ہوتی ہے۔ای ڈی کے عہدیداروں کے مطابق یہ کارروائی منی لانڈرنگ مخالف قانون (PMLA) کے تحت کی گئی ہے۔ خبر رساں ایجنسی Press Trust of India (پی ٹی آئی) نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ عارضی ضبطی کے احکامات جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید قانونی کارروائی کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
15 ہزار کروڑ سے زائد کی جائیدادیں پہلے ہی ضبط
ذرائع کا کہنا ہے کہ انیل امبانی اور ان کے صنعتی گروپ سے وابستہ کمپنیوں کے خلاف اب تک مجموعی طور پر 15 ہزار کروڑ روپے سے زائد مالیت کی جائیدادیں ضبط کی جا چکی ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ تفتیشی ایجنسیوں نے اپنی کارروائی کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔
ہائی کورٹ سے بھی بڑا جھٹکا
ای ڈی کی کارروائی سے قبل پیر کے روز Bombay High Court نے بھی انیل امبانی کو بڑا قانونی جھٹکا دیا۔ عدالت نے اس معاملے میں سنگل جج بینچ کے عبوری حکم کو منسوخ کر دیا، جس کے تحت Reliance Communications (آرکام) کے بینک کھاتوں کو دھوکہ دہی کے زمرے میں شامل کرنے کی کارروائی پر عارضی روک لگا دی گئی تھی۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد متعلقہ بینکوں اور تحقیقاتی اداروں کو کارروائی جاری رکھنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
‘Abode’ — پالی ہل کی شان
جس رہائش گاہ پر ای ڈی نے کارروائی کی ہے وہ ممبئی کے پوش علاقے پالی ہل میں واقع 17 منزلہ عالیشان عمارت ہے، جسے ‘Abode’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ عمارت جدید طرزِ تعمیر اور اعلیٰ سکیورٹی نظام کی وجہ سے بھی شہرت رکھتی ہے۔
اگرچہ یہ ضبطی عارضی نوعیت کی ہے، تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو مستقل ضبطی اور مزید مالی جرمانوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
📌 معاملہ کہاں سے شروع ہوا؟
یہ پورا کیس مبینہ بینک فراڈ اور قرضوں کی عدم ادائیگی سے جڑا ہوا بتایا جا رہا ہے، جس میں رِلائنس کمیونیکیشنز (آرکام) پر مالی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ تفتیشی ایجنسیاں مبینہ طور پر فنڈز کے استعمال اور منتقلی کے پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہیں۔
سیاسی اور کارپوریٹ حلقوں میں اس پیش رفت کو نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق آئندہ چند ہفتوں میں اس کیس میں مزید انکشافات سامنے آ سکتے ہیں، جو ملک کے کارپوریٹ سیکٹر کے لیے بڑے اثرات کا باعث بن سکتے ہیں۔
