ایئر ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو کی 22 صفحات پر مشتمل ابتدائی رپورٹ جاری
بارامتی ہوائی اڈے پر ہنگامی سہولیات کا فقدان، خراب روشنی اور دھندلے نشانات حادثے کی بڑی وجوہات قرار
ممبئی (ایجنسی) — ایئر ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (اے اے آئی بی) نے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے طیارہ حادثے سے متعلق 22 صفحات پر مشتمل ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 28 جنوری کو پیش آنے والے اس حادثے میں اجیت پوار سمیت پانچ افراد جاں بحق ہوئے تھے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حادثے کی بڑی وجوہات میں رن وے (اتارنے اور اُڑان بھرنے کی پٹی) پر ناکافی روشنی، دھندلے نشانات اور سطح پر موجود ڈھیلی بجری شامل ہیں۔ لینڈنگ (اترنے) کے دوران طیارہ پٹی کے بائیں جانب زمین سے ٹکرا گیا۔ہوائی اڈے پر بنیادی سہولیات کا فقدان
تحقیقات کے مطابق بارامتی ہوائی اڈے پر طیارہ بچاؤ اور آگ بجھانے کا کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں ہے۔ ہنگامی صورت حال میں بارامتی میونسپل کارپوریشن سے مدد لی جاتی ہے، جس سے امدادی کارروائی میں تاخیر کا اندیشہ رہتا ہے۔اسی طرح موسم کی معلومات فراہم کرنے کا بھی کوئی باقاعدہ نظام نہیں پایا گیا۔ پائلٹس کو مرئیت (دیکھنے کی حد) کے بارے میں کنٹرول روم سے معلومات لینا پڑتی تھیں۔ حادثے کے وقت مرئیت تقریباً 300 میٹر بتائی گئی تھی جو محفوظ لینڈنگ کے لیے کم سمجھی جاتی ہے۔

ہوا کی سمت بتانے کی سہولت ناکافی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پٹی نمبر 29 کی سمت دو ہوا کی سمت بتانے والے کپڑے (ونڈ ساک) نصب ہیں، لیکن پٹی نمبر 11 کی جانب کوئی ایسی سہولت موجود نہیں۔ اس کے علاوہ جدید رہنمائی یا نیویگیشن (سمت شناسی) کا نظام بھی دستیاب نہیں تھا۔
پائلٹس کا تجربہ اور آخری لمحات
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ دونوں پائلٹس اس ہوائی اڈے سے پہلے بھی واقف تھے اور اہم شخصیات کی پروازیں اڑا چکے تھے۔ تاہم حادثے کے آخری لمحات میں کاک پٹ (پائلٹ کے کیبن) کی آواز ریکارڈ کرنے والے آلے میں پائلٹ کے آخری الفاظ “اوہ اوہ” ریکارڈ ہوئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اچانک صورت حال خراب ہوئی۔
پرواز کا ریکارڈ محفوظ، تجزیہ جاری
طیارے کے پرواز کا ڈیٹا محفوظ کرنے والے آلے اور آواز ریکارڈ کرنے والے آلے سے معلومات حاصل کر لی گئی ہیں۔ اس عمل میں امریکی قومی ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (قومی نقل و حمل تحفظ بورڈ) کا تعاون لیا گیا۔ حاصل شدہ معلومات کا تفصیلی جائزہ جاری ہے اور حتمی رپورٹ بعد میں پیش کی جائے گی۔
اہم سفارشات
رپورٹ میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (شہری ہوا بازی کا ڈائریکٹوریٹ جنرل) کو سفارش کی گئی ہے کہ غیر کنٹرول شدہ ہوائی اڈوں پر اترنے کی اجازت دینے والے تمام آپریٹرز (چلانے والے اداروں) کے لیے سخت معیاری عملی طریقہ کار نافذ کیا جائے۔
مزید برآں پٹی کی دوبارہ رنگ کاری، واضح نشانات کی بحالی، مکمل حفاظتی باڑ کی تنصیب اور طیارہ بچاؤ و آگ بجھانے کے نظام کے قیام کو فوری ضروری قرار دیا گیا ہے۔
نتیجہ
ابتدائی رپورٹ نے بارامتی ہوائی اڈے کی حفاظتی خامیوں کو نمایاں کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں بھی ایسے حادثات کا خدشہ برقرار رہے گا۔ حتمی رپورٹ میں حادثے کی مکمل تکنیکی وجوہات اور ذمہ داریوں کا تعین کیا جائے گا۔
