ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیلی فضائی حملے میں جاں بحق ہونے والے ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ آج (بدھ) تہران میں ادا کی جائے گی، جس میں اعلیٰ سرکاری شخصیات، مذہبی رہنما اور بڑی تعداد میں عوام کی شرکت متوقع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جنازہ بدھ کی رات تقریباً ڈیڑھ بجے اٹھایا جائے گا، جبکہ تدفین کی باقاعدہ رسومات تین روزہ سوگ اور مذہبی تقریبات کے بعد 6 مارچ کو انجام دی جائیں گی۔سرکاری ذرائع کے مطابق خامنہ ای گزشتہ ہفتے علی الصبح ہونے والے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہوئے۔ اس واقعے کے بعد ایران میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور اہم سرکاری و عسکری مقامات پر حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
ادھر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایرانی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای نئے رہبرِ اعلیٰ کے طور پر نمایاں امیدوار بن کر سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ماہرین کی مجلس کی مشاورت جاری ہے اور نئے رہبرِ اعلیٰ کے تقرر کا فیصلہ ممکنہ طور پر آج ہی سامنے آ سکتا ہے، جس پر پورے خطے کی نظریں مرکوز ہیں۔دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ دفاع نے سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کی قیادت میں آنے والا کوئی بھی نیا رہنما اسرائیل کو نقصان پہنچانے یا امریکہ کو دھمکانے کی پالیسی جاری رکھتا ہے تو اسے بھی سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کے اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خامنہ ای کی ہلاکت اور قیادت کی ممکنہ تبدیلی نہ صرف ایران بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سیاسی صورتِ حال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے بھی حالات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
