جنگی کشیدگی کے دوران ایران میں زلزلے کے جھٹکے، بندر عباس کے قریب 4.1 شدت ریکارڈ
ایران میں جاری کشیدہ حالات کے درمیان ہفتہ (7 مارچ) کی صبح زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث مقامی آبادی میں کچھ دیر کے لیے خوف و ہراس پھیل گیا۔
امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.1 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کا مرکز ایران کے اہم ساحلی شہر بندر عباس سے تقریباً 74 کلومیٹر مغرب میں تھا، جبکہ اس کی گہرائی زمین کے اندر تقریباً 10 کلومیٹر بتائی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق کم گہرائی میں آنے والے زلزلوں کے جھٹکے سطح پر نسبتاً زیادہ شدت سے محسوس ہوتے ہیں۔جھٹکے محسوس ہوتے ہی علاقے کے کئی لوگ گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے۔ تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس زلزلے کے نتیجے میں کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔ مقامی انتظامیہ نے صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے حفاظتی اقدامات پر توجہ دینا شروع کر دی ہے۔
#BREAKING | An earthquake of Magnitude 4.1 struck west of Bandar Abbas in Iran, according to the United States Geological Survey (USGS). The earthquake struck 74 kilometres west of Bandar Abbas at a depth of 10 kilometres#IranWar #IranIsraelWar #strikes #earthquake pic.twitter.com/6DvHrzOJtt
— WION (@WIONews) March 7, 2026
واضح رہے کہ بندر عباس ایران کی ایک اہم بندرگاہی اور اسٹریٹجک اہمیت کی حامل جگہ ہے، جہاں صنعتی اور فوجی تنصیبات بھی موجود ہیں۔ اسی وجہ سے یہاں آنے والے کسی بھی قدرتی واقعے کو حساسیت کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔یہ زلزلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب گزشتہ چند دنوں سے ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور فوجی تناؤ کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ گزشتہ چار دنوں کے دوران ایران میں یہ دوسرا موقع ہے جب زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے بعد مختلف حلقوں میں قیاس آرائیاں بھی شروع ہو گئی ہیں۔بعض تجزیہ کار اس واقعے کو ممکنہ زیرِ زمین تجربات سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں، تاہم اب تک کوئی سائنسی ثبوت سامنے نہیں آیا جو اس بات کی تصدیق کرے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران جغرافیائی لحاظ سے کئی بڑی فالٹ لائنز کے قریب واقع ہے، اس لیے وہاں زلزلے آنا ایک معمول کی بات بھی سمجھی جاتی ہے۔
