ایران-امریکہ بات چیت بے نتیجہ، شرائط پر اختلاف برقرار، امریکی وفد واپس روانہ
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری اہم مذاکرات بالآخر کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے۔ طویل اور تفصیلی بات چیت کے باوجود دونوں ممالک کسی مشترکہ معاہدے پر اتفاق نہ کر سکے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ مثبت نیت کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہوا تھا، لیکن بدقسمتی سے کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا، جس کے باعث امریکی وفد اب وطن واپس جا رہا ہے۔ ان کے مطابق بات چیت کے دوران کئی امور پر پیش رفت ضرور ہوئی، مگر حتمی اتفاق رائے حاصل نہ ہو سکا۔
ब्रेकिंग न्यूज़
U.S. वाइस प्रेसिडेंट जे.डी. वैन्स इस्लामाबाद से वापिस लौट रहे हैं
“बुरी ख़बर यह है कि हम किसी एग्रीमेंट पर नहीं पहुँचे हैं। और मुझे लगता है कि यह U.S. से कहीं ज़्यादा ईरान के लिए बुरी ख़बर है। तो, हम वापस इस बात पर आते हैं कि US एग्रीमेंट पर नहीं पहुँच पाया है,… pic.twitter.com/1k3juIpSz9
— Umashankar Singh उमाशंकर सिंह (@umashankarsingh) April 12, 2026
دوسری جانب ایرانی حکام کا موقف ہے کہ امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی سخت شرائط اور اضافی مطالبات معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق ان شرائط کو قبول کرنا ممکن نہیں تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تقریباً 21 گھنٹوں تک جاری رہنے والی اس طویل میٹنگ میں خاص طور پر جوہری پروگرام کا معاملہ زیر بحث رہا۔ امریکہ نے ایران سے واضح یقین دہانی کا مطالبہ کیا کہ وہ مستقبل میں جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کرے گا، جبکہ ایران اس معاملے پر مکمل طور پر آمادہ نظر نہیں آیا۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ واشنگٹن نے اپنی “سرخ لکیریں” واضح کر دی تھیں اور ایک قابلِ عمل تجویز بھی پیش کی تھی، تاہم ایرانی وفد نے ان شرائط کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا اور مستقبل میں دوبارہ بات چیت کے امکانات موجود ہیں۔
فی الحال دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور کسی حتمی پیش رفت کے آثار نظر نہیں آ رہے۔
