اڈیشہ سے ایک دل دہلا دینے والی خبر سامنے آئی ہے جہاں دو مختلف واقعات میں پانچ اسکولی طالبات پانی میں ڈوب کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔یہ افسوسناک حادثے کوراپٹ اور میور بھنج اضلاع میں پیش آئے جس کے بعد پورے علاقے میں غم کی فضا پھیل گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق پہلا واقعہ کوراپٹ ضلع کے کولمب تالاب میں پیش آیا، جہاں دسویں جماعت کی تین طالبات ڈوب گئیں۔بتایا جا رہا ہے کہ یہ طالبات بورڈ امتحان دینے کے بعد اسکول سے باہر نکلیں اور اپنے والدین کا انتظار کر رہی تھیں۔امتحان ختم ہونے کی خوشی میں وہ قریبی تالاب کے پاس چلی گئیں اور پانی میں کھیلنے لگیں، لیکن بدقسمتی سے وہ گہرے پانی میں چلی گئیں اور ڈوب گئیں۔
مقامی لوگوں نے فوری طور پر بچاؤ کی کوشش کی اور انہیں شہید لکشمن نائک میڈیکل کالج و اسپتال منتقل کیا، مگر ڈاکٹروں نے تینوں طالبات کو مردہ قرار دے دیا۔پولیس کے مطابق یہ حادثہ ہفتے کے دن دوپہر تقریباً تین سے ساڑھے تین بجے کے درمیان پیش آیا۔
مرنے والی طالبات کی شناخت
لنگراج خیل (16 سال)،
سواستیک (15 سال)
اور اوم پرکاش (16 سال) کے طور پر ہوئی ہے۔
اس واقعے کے بعد متاثرہ طالبات کے اہل خانہ نے اسکول انتظامیہ پر لاپرواہی کا الزام لگاتے ہوئے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسرا حادثہ میور بھنج ضلع میں پیش آیا جہاں دو کم عمر طالبات تالاب میں نہاتے ہوئے ڈوب گئیں۔اطلاعات کے مطابق سات سالہ سبھاش سندھیا نائک اور آٹھ سالہ راج لکشمی سنکھوال اسکول سے واپس آنے کے بعد قریبی تالاب میں نہانے کے لیے گئی تھیں۔جب گھر والوں کو اس واقعے کا علم ہوا تو وہ فوراً تالاب کی طرف پہنچے اور دونوں بچیوں کو پانی سے نکال کر کپت پاڑا اسپتال لے گئے، لیکن ڈاکٹروں نے انہیں بھی مردہ قرار دے دیا۔ایک ہی دن میں پیش آنے والے ان دو افسوسناک واقعات میں پانچ طالبات کی موت نے پورے علاقے کو غمزدہ کر دیا ہے۔اس سانحے پر سیاسی رہنماؤں نے بھی گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔بیجو جنتا دل کے صدر نوین پٹنائک نے اپنے پیغام میں کہا کہ طالبات کی موت کی خبر نہایت افسوسناک ہے اور انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی ظاہر کی۔اسی طرح اڈیشہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر بھکتا چرن داس نے بھی اس واقعے پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتہائی دردناک حادثہ ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ خدا مرحوم بچیوں کو سکون عطا کرے اور ان کے خاندانوں کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت دے۔
