اوڈیشہ کے شہر کٹک میں واقع ایس سی بی میڈیکل کالج اور اسپتال میں پیر کی علی الصبح ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا جب ٹراما کیئر آئی سی یو میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ اس المناک واقعے میں کم از کم دس مریض اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ کئی دیگر افراد زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد ریاستی حکومت نے اس سانحے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق آگ تقریباً تین بجے صبح اسپتال کی میڈیسن عمارت کی پہلی منزل پر واقع ٹراما کیئر آئی سی یو میں لگی۔ چند ہی لمحوں میں پورا وارڈ دھوئیں سے بھر گیا جس کے باعث وہاں زیر علاج مریضوں کی حالت مزید تشویشناک ہو گئی۔ اس وقت آئی سی یو میں کئی مریض انتہائی نازک حالت میں تھے اور بعض کو لائف سپورٹ سسٹم پر رکھا گیا تھا، جس کی وجہ سے انہیں فوری طور پر منتقل کرنا مشکل ثابت ہوا۔
آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی اسپتال کے عملے اور فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔ تاہم آگ اور گہرے دھوئیں کے باعث کئی مریض متاثر ہو گئے۔ ریسکیو ٹیموں کی کوششوں سے متعدد مریضوں کو وارڈ سے بحفاظت نکال لیا گیا جبکہ شدید بیمار مریضوں کو فوری طور پر اسپتال کے نئے میڈیسن آئی سی یو میں منتقل کیا گیا تاکہ ان کا علاج جاری رکھا جا سکے۔
آگ پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ کی تین گاڑیوں کو طلب کیا گیا اور کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد صورتحال قابو میں لائی جا سکی۔ اس حادثے کے بعد اسپتال میں خوف اور بے چینی کی فضا پیدا ہو گئی جبکہ مریضوں کے اہل خانہ شدید پریشانی میں مبتلا نظر آئے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی اوڈیشہ کے وزیر اعلیٰ موہن ماجھی اسپتال پہنچے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کر کے تعزیت کا اظہار کیا۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق اس وارڈ میں مجموعی طور پر تئیس مریض زیر علاج تھے۔ ریسکیو آپریشن شروع ہونے سے پہلے ہی سات مریض دم توڑ چکے تھے جبکہ بعد میں دھوئیں اور زخموں کے باعث مزید تین افراد کی جان چلی گئی۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ اس سانحے میں کم از کم پانچ مریض شدید زخمی ہوئے ہیں جبکہ اسپتال کے دو ملازمین بھی زخمی بتائے جا رہے ہیں۔ ریاستی حکومت نے جاں بحق مریضوں کے لواحقین کے لیے پچیس لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ لگنے کی ممکنہ وجہ آئی سی یو کے ایئر کنڈیشننگ سسٹم یا کسی طبی آلے میں برقی خرابی یعنی شارٹ سرکٹ ہو سکتی ہے۔ حکومت نے واقعے کی مکمل تحقیقات کے احکامات جاری کر دیے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اسپتال میں فائر سیفٹی کے تمام اصولوں پر عمل کیا جا رہا تھا یا نہیں۔
