اورنگ آباد شہر میں غیر قانونی تعمیرات کو قانونی شکل دینے کے لیے شروع کیا گیا گنٹھے واری منصوبہ اب سست روی کا شکار ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ چند ماہ پہلے تک جہاں بڑی تعداد میں شہری اپنی جائیدادوں کو قانونی حیثیت دلانے کے لیے درخواستیں جمع کر رہے تھے، اب صورتحال بدلتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔اطلاعات کے مطابق پہلے اس منصوبے کے تحت شہریوں کو فیس میں بڑی رعایت دی جا رہی تھی۔ اسی وجہ سے لوگ بڑی تعداد میں آگے آئے اور اپنی درخواستیں داخل کرائیں۔شہر میں کئی سال سے ایسے مکانات اور تعمیرات موجود ہیں جن کی قانونی حیثیت مکمل طور پر واضح نہیں تھی۔اس منصوبے کے ذریعے شہریوں کو موقع دیا گیا تھا کہ وہ اپنی جائیدادوں کے کاغذات مکمل کریں اور قانونی تحفظ حاصل کریں۔
ابتدائی مرحلے میں اس اقدام کو کافی کامیاب قرار دیا گیا تھا۔لوگوں نے بڑی تعداد میں درخواستیں داخل کیں۔ذرائع کے مطابق ہزاروں درخواستیں جمع ہونے کے بعد انتظامیہ کو بڑی آمدنی بھی حاصل ہوئی۔تاہم اب صورتحال پہلے جیسی دکھائی نہیں دے رہی۔اطلاعات کے مطابق اب ہر ہفتے بہت کم درخواستیں جمع ہو رہی ہیں۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ رعایت میں کمی آنے کے بعد لوگوں کی دلچسپی بھی کم ہوگئی ہے۔بعض افراد کا کہنا ہے کہ موجودہ فیس عام شہری کے لیے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔کچھ شہریوں نے طریقہ کار کو بھی مشکل قرار دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کاغذی کارروائی مکمل کرنے میں کافی وقت لگتا ہے۔دوسری جانب انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عوامی دلچسپی دوبارہ بڑھانی ہے تو مزید آسانیاں پیدا کرنا ہوں گی۔شہر کے مختلف علاقوں میں اس معاملے پر بات چیت جاری ہے۔کئی لوگوں کا خیال ہے کہ اگر بہتر سہولت دی جائے تو لوگ دوبارہ آگے آسکتے ہیں۔اورنگ آباد میں اس منصوبے کے مستقبل پر اب سب کی نظریں مرکوز ہیں۔لوگ انتظار کر رہے ہیں کہ آئندہ دنوں میں کیا نئی پیش رفت سامنے آتی ہے۔
