مغربی ایشیا میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے خلاف مشترکہ طور پر ’’پریوینٹیو اٹیک‘‘ (احتیاطی فوجی کارروائی) شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے ہفتہ کی صبح اس کارروائی کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدم اسرائیل کو درپیش ممکنہ خطرات کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔اسرائیلی فوج نے ملک بھر میں پیشگی الرٹ جاری کرتے ہوئے سائرن بجا دیے اور شہریوں کو ہدایت دی کہ وہ ممکنہ ایرانی میزائل حملوں کے پیش نظر محفوظ مقامات کا رخ کریں۔ حکومت کی جانب سے عوام کو احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

تہران میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات
ایرانی دارالحکومت تہران سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق شہر کے مختلف حصوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ مقامی میڈیا اور عینی شاہدین کے مطابق کم از کم پانچ دھماکے شہر کے مرکزی علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ سرکاری ذرائع نے شمالی تہران کے علاقے ’’سید خندان‘‘ میں بھی دھماکوں کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ابتدائی رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملک بھر میں تقریباً 30 مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں حساس سرکاری عمارتیں، ہوائی اڈے، مبینہ خفیہ تنصیبات اور کچھ رہائشی علاقے شامل ہیں۔ تاہم ایرانی حکام نے ابھی تک کسی بڑے نقصان یا جانی خسارے کی سرکاری تصدیق نہیں کی ہے۔
سفارتی کوششوں کے دوران حملہ
یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری پروگرام کے معاملے پر سفارتی مذاکرات جاری تھے۔ فروری کے دوران جنیوا میں عمان کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے تین دور ہو چکے تھے۔ ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے، اگرچہ کچھ تکنیکی امور پر اختلافات برقرار تھے۔امریکی حکام کی جانب سے بھی اشارہ دیا گیا تھا کہ مذاکرات آئندہ ہفتے جاری رہ سکتے ہیں، تاہم تازہ فوجی کارروائی نے سفارتی عمل کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
اسرائیل کا مؤقف اور ایران کا ردعمل
اسرائیل مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایران کے جوہری ڈھانچے کا مکمل خاتمہ شامل ہونا چاہیے۔ اسرائیلی قیادت کا کہنا ہے کہ صرف یورینیم کی افزودگی روک دینا کافی نہیں ہوگا، بلکہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی مذاکرات کا حصہ بنایا جانا ضروری ہے۔دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ وہ پابندیاں ختم کیے جانے کی صورت میں اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر آمادہ ہے، لیکن میزائل پروگرام کو کسی بھی معاہدے سے جوڑنے کو قبول نہیں کرے گا۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں وہ اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
خطے میں بڑھتا ہوا تناؤ
واضح رہے کہ گزشتہ سال جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ فضائی تصادم ہو چکا ہے، جس میں امریکہ نے بھی پہلی بار براہ راست حصہ لیا تھا۔ ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال خطے کو ایک وسیع تر تصادم کی طرف دھکیل سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی سیاست اور توانائی کی منڈیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا سفارتی راستہ دوبارہ بحال ہو پائے گا یا خطہ ایک نئی جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔
باخبر رہنے کے لیے جڑے رہیں “خبروں کی خبر” کے ساتھ۔ ملک و دنیا کی ہر بڑی پیش رفت، بروقت، مستند اور آسان زبان میں سب سے پہلے آپ تک پہنچانا ہمارا وعدہ ہے۔ سچ کے ساتھ، ہر خبر کے ساتھ — صرف “خبروں کی خبر”
