ایران نے ایک مرتبہ پھر واضح اور دوٹوک انداز میں خبردار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کو کھلی جارحیت سمجھا جائے گا اور اس کا مناسب جواب دیا جائے گا۔ تہران کے مطابق حملہ خواہ محدود ہی کیوں نہ ہو، اس کی نوعیت جارحانہ ہی تصور کی جائے گی اور اس کے نتائج بھی اسی نوعیت کے ہوں گے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جارحیت کی کوئی حد مقرر نہیں کی جا سکتی۔ ان کے بقول اگر ایران کو نشانہ بنایا گیا تو ردعمل یقینی ہوگا۔ انہوں نے امریکا پر متضاد بیانات دینے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ ایران مذاکرات کو طول دینے میں دلچسپی نہیں رکھتا بلکہ سنجیدہ اور نتیجہ خیز پیش رفت چاہتا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ چاہے گزشتہ برس جون سے پہلے ہونے والے مذاکرات ہوں یا حالیہ ادوار، ایران بارہا واضح کر چکا ہے کہ وہ دنوں یا ہفتوں تک بغیر کسی تعطل کے بات چیت جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم دس یا چودہ دن کے وقفوں سے مذاکرات کرنا تہران کا پسندیدہ طریقہ نہیں اور نہ ہی وہ عمل کو غیر ضروری طور پر کھینچنا چاہتا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل عندیہ دیا تھا کہ اگر جوہری معاہدہ طے نہ پا سکا تو امریکا ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی پر غور کر سکتا ہے۔ اس سے پہلے بھی انہوں نے کہا تھا کہ آئندہ چند دنوں میں واضح ہو جائے گا کہ ایران کے ساتھ معاملات کس سمت جاتے ہیں، اور اگر معاہدہ نہ ہوا تو نتائج سخت ہو سکتے ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان عمان کی ثالثی میں بالواسطہ مذاکرات کے دو دور مکمل ہو چکے ہیں۔ پیر 22 فروری کو عمان کے وزیر خارجہ نے تصدیق کی کہ تیسرا دور جمعرات کو جنیوا میں منعقد ہوگا۔ عمان، جو دونوں ممالک کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات ایک مثبت پیش رفت کو یقینی بنانے اور ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کی اضافی کوشش ہے۔
اس سے قبل 17 فروری کو جنیوا میں ہونے والے دوسرے دور کے بعد واشنگٹن اور تہران دونوں کی جانب سے محتاط بیانات سامنے آئے تھے، جن میں بعض خدشات کا اظہار بھی کیا گیا، تاہم ساتھ ہی کچھ حوصلہ افزا اشارے بھی دیے گئے تھے۔
