Ahmedabad: Debris of Air India Flight AI171 seen at the crash site, in Ahmedabad on Thursday, June 12, 2025. (Photo: IANS)
احمد آباد طیارہ حادثہ: 10 ماہ بعد بھی حقیقت پردے میں، متاثرین کے اہلِ خانہ کا وزیراعظم سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ
احمد آباد:گزشتہ برس گجرات کے احمد آباد میں پیش آئے ہولناک طیارہ حادثے کو تقریباً 10 ماہ گزر چکے ہیں، مگر اب تک کئی اہم سوالات کے تسلی بخش جواب سامنے نہیں آ سکے۔ اسی بے یقینی اور کرب کے باعث متاثرہ خاندانوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر حادثے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہیں مالی معاوضے سے زیادہ سچ جاننے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر وہ کون سی خرابی یا غلطی تھی جس نے چند لمحوں میں 260 قیمتی جانیں چھین لیں۔
یاد رہے کہ ایئر انڈیا کی پرواز AI-171، جو لندن کے لیے روانہ ہو رہی تھی، 12 جون 2025 کو سردار ولبھ بھائی پٹیل انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد ایک میڈیکل کالج کے ہاسٹل گراؤنڈ میں گر کر تباہ ہو گئی تھی۔ حادثے کے بعد لگنے والی شدید آگ نے تباہی کو مزید بڑھا دیا، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار 242 میں سے 241 افراد جاں بحق ہو گئے، جبکہ زمین پر موجود 19 دیگر افراد بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
STORY | Families of AI171 crash victims seek release of black box data, write to PM
Ten months after the tragic Air India plane crash that killed 260 persons, bereaved families of the victims have written to Prime Minister Narendra Modi, urging the release of the Cockpit Voice… pic.twitter.com/kXlHUCokYL
— Press Trust of India (@PTI_News) April 5, 2026
اہلِ خانہ نے اپنے خط میں کاک پٹ وائس ریکارڈر (CVR) اور بلیک باکس کا ڈیٹا جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ حادثے کی اصل وجوہات سامنے آ سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ معلومات عوامی طور پر ظاہر نہیں کی جا سکتیں تو کم از کم متاثرین کے خاندانوں کے ساتھ نجی طور پر شیئر کی جائیں۔
متاثرین کے مطابق، جب تک حقیقت سامنے نہیں آتی، ان کا غم کم نہیں ہو سکتا۔ ان کے لیے یہ صرف ایک تکنیکی معاملہ نہیں بلکہ انصاف اور ذہنی سکون کی اپیل ہے۔
اہلِ خانہ نے اپنے خط کی نقول شہری ہوابازی حکام، اے اے آئی بی، ڈی جی سی اے اور گجرات کے وزیر اعلیٰ کو بھی بھیجی ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اس معاملے میں مکمل شفافیت اور جوابدہی چاہتے ہیں۔
