نئی دہلی: مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے معروف صنعت کار انل امبانی سے تقریباً آٹھ گھنٹے تک تفصیلی پوچھ گچھ کی، جو 2929 کروڑ روپے کے مبینہ بینک فراڈ کیس سے متعلق ہے۔ ذرائع کے مطابق وہ جمعرات کو دہلی میں سی بی آئی کے دفتر پہنچے، جہاں حکام نے مختلف پہلوؤں پر ان سے سوالات کیے۔ اطلاعات ہیں کہ انہیں مزید تفتیش کے لیے دوبارہ طلب کیا جا سکتا ہے یہ کیس اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کی شکایت کے بعد درج کیا گیا تھا۔ سی بی آئی نے اگست 2025 میں ریلائنس کمیونیکیشنز، انل امبانی اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ شروع کیا، جس میں الزام ہے کہ قرض کی رقم کے استعمال میں بے ضابطگیاں ہوئیں اور بینکوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
تحقیقات کے دوران سامنے آیا کہ 2013 سے 2017 کے درمیان کمپنی نے مختلف گروپ اداروں کے ذریعے پیچیدہ مالی لین دین کیے، جن کے ذریعے قرض کی رقم کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا۔ یہ انکشاف فرانزک آڈٹ رپورٹ میں ہوا، جسے کیس میں اہم ثبوت سمجھا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس معاملے میں 17 سرکاری بینک متاثر ہوئے، جن کی مجموعی رقم تقریباً 19,694 کروڑ روپے بنتی ہے۔ سب سے زیادہ نقصان ایس بی آئی کو ہوا، جبکہ پنجاب نیشنل بینک، بینک آف انڈیا، یونین بینک، یوکو بینک، سینٹرل بینک اور آئی ڈی بی آئی بینک سمیت کئی دیگر اداروں نے بھی شکایات درج کرائی ہیں۔
اس سے پہلے سی بی آئی نے ممبئی میں ریلائنس کمیونیکیشنز کے دفاتر اور انل امبانی کی رہائش گاہ پر بھی چھاپے مارے تھے، جہاں سے اہم دستاویزات حاصل کیے گئے۔ انہی شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
انل امبانی کے ترجمان کے مطابق وہ تفتیش میں مکمل تعاون کر رہے ہیں اور ایجنسی کی جانب سے بلائے جانے پر پیش ہوتے رہیں گے۔ دوسری جانب سی بی آئی ایک اور کیس کی بھی جانچ کر رہی ہے، جس میں تقریباً 57.47 کروڑ روپے کے مبینہ فراڈ کا معاملہ شامل ہے اور اس میں ریلائنس کمرشل فنانس لمیٹڈ کے کردار کی بھی جانچ ہو رہی ہے۔
سی بی آئی کا کہنا ہے کہ مختلف بینکوں سے موصول شکایات اور دستیاب شواہد کی روشنی میں کیس کی باریک بینی سے تفتیش جاری ہے، اور آنے والے وقت میں مزید اہم تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے
