اورنگ آباد:سابق رکن پارلیمنٹ امتیاز جلیل نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن میں چلائی جا رہی رمائی گھرکل یوجنا کے تحت بڑے مالی گھوٹالے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اسکیم میں گزشتہ کئی برسوں سے کروڑوں روپے کی بے ضابطگیاں ہو رہی ہیں اور اس معاملے میں جعلی دستاویزات کے استعمال کا انکشاف بھی ہوا ہے۔پریس کانفرنس کے دوران امتیاز جلیل نے دعویٰ کیا کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ دیویندر پھڑنویس اور نائب وزیر اعلیٰ ایکنا تھ شندے کے نام پر فرضی دستاویزات تیار کی گئیں۔ ان کے مطابق جعلی آدھار کارڈ، راشن کارڈ اور ذات کے سرٹیفکیٹ بنا کر اسکیم کے تحت مکانات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی اور اس طرح سرکاری رقم کا غلط استعمال کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض بااثر افراد اور دلالوں کی ملی بھگت سے غریبوں کے لیے بنائی گئی اس اسکیم کا فائدہ اصل مستحقین تک نہیں پہنچ رہا۔ ان کا الزام ہے کہ کئی برسوں سے اس اسکیم کے نام پر بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیاں جاری ہیں۔امتیاز جلیل نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سال 2010 کے بعد اس اسکیم کے تحت ہزاروں مکانات تقسیم کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا، مگر حقیقت میں ان میں سے کئی مکانات زمین پر موجود ہی نہیں ہیں۔ ان کے مطابق اس معاملے میں کچھ بڑے سیاسی اور انتظامی افراد کے ملوث ہونے کا بھی شبہ ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف شکایت درج کرانے سے انصاف نہیں ملے گا، اس لیے وہ تمام ثبوتوں کے ساتھ عدالت سے رجوع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اس پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا تاکہ حقیقت سامنے آ سکے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی ہو۔
