ممبئی میں ’مرضی کی موت‘ کے معاملات پر ابہام برقرار — 40 درخواستیں فیصلے کی منتظر
مہاراشٹر حکومت کے محکمہ شہری ترقیات کی جانب سے ایسے حساس معاملات کے اندراج کے لیے ایک ڈیجیٹل پورٹل تو قائم کیا جا چکا ہے، لیکن برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کی سطح پر اس کا عملی استعمال تاحال شروع نہیں ہو سکا، جس کے باعث کئی اہم درخواستیں التوا کا شکار ہیں۔
ممبئی میں ’یوتھنیشیا‘ (مرضی کی موت) ایک مرتبہ پھر عوامی اور طبی حلقوں میں زیر بحث ہے۔ حال ہی میں ہریش رانا کو سپریم کورٹ کے طے کردہ اصولوں کے تحت مرضی کی موت کی اجازت دی گئی، جن کی بدھ کے روز آخری رسومات ادا کی گئیں۔ اس واقعہ کے بعد یہ انکشاف سامنے آیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تقریباً 40 افراد نے بی ایم سی کے پاس اس حوالے سے درخواستیں جمع کروائی ہیں۔یاد رہے کہ سال 2023 میں سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے مخصوص شرائط کے ساتھ شدید اور لاعلاج مریضوں کے لیے یوتھنیشیا کی اجازت دی تھی۔ اسی فیصلے کی روشنی میں ریاستی حکومت نے بلدیہ کو ایسی درخواستوں پر کارروائی کی ذمہ داری سونپی، جس کے تحت شہر کے مختلف علاقوں کے چیف میڈیکل آفیسرز کے پاس یہ درخواستیں موصول ہوئیں۔
تاہم سب سے بڑا مسئلہ ان درخواستوں پر عمل درآمد کا طریقہ کار ہے، جو اب تک واضح نہیں ہو سکا۔ تقریباً دو سال گزرنے کے باوجود افسران اس بات پر متفق نہیں ہو سکے کہ کن اصولوں کے تحت فیصلہ کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک ایک بھی کیس کو حتمی منظوری نہیں مل سکی ہے، اور قانونی و تکنیکی پیچیدگیاں برقرار ہیں۔
ماہر ڈاکٹروں کے مطابق یوتھنیشیا جیسے معاملات میں کئی نازک سوالات جنم لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی مریض ممبئی میں درخواست دے لیکن اس کا انتقال کسی دوسری جگہ ہو جائے تو فیصلہ کن اختیار کس کے پاس ہوگا؟ اسی طرح مریض کی طبی حالت، اہل خانہ کی رضامندی، میڈیکل بورڈ کی رائے اور قانونی جانچ جیسے پہلو ابھی تک مکمل طور پر واضح نہیں ہیں۔دوسری جانب حکومت کی جانب سے تیار کردہ ڈیجیٹل پورٹل موجود ہونے کے باوجود بی ایم سی میں اس کا استعمال شروع نہ ہونا بھی ایک بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ بلدیہ کو اپنا الگ نظام تیار کرنا چاہیے، جبکہ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ جب سرکاری پلیٹ فارم دستیاب ہے تو نئے نظام کی ضرورت نہیں۔
سماجی کارکن اور ڈاکٹر نکھل داتار نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس حساس معاملے میں فوری طور پر واضح اور جامع رہنما اصول جاری کیے جائیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں قانونی جدوجہد بھی کی ہے۔ بی ایم سی نے بھی متعدد بار ریاستی حکومت کو خطوط لکھ کر ہدایات طلب کی ہیں۔اب توقع کی جا رہی ہے کہ حکومت جلد ہی اس اہم اور حساس معاملے پر واضح قواعد و ضوابط مرتب کرے گی، تاکہ مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو غیر یقینی صورتحال سے نجات مل سکے۔
